واٹس ایپ میں مصنوعی ذہانت کا نیا دور، اہم تبدیلیاں متعارف
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
واٹس ایپ نے 2025 کی پہلی بڑی اپڈیٹ کا آغاز کر دیا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو ایپ کے اہم فیچرز کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اینڈرائیڈ بیٹا ورژن میں ایک نیا اے آئی ٹیب شامل کیا گیا ہے جو صارفین کو جدید ٹولز کے استعمال کا موقع فراہم کرے گا۔
نئی اپڈیٹ کے تحت اے آئی ٹیب میں مختلف فیچرز مہیا کیے جائیں گے، جن میں مقبول اے آئی کریکٹرز کے ساتھ چیٹ کرنے کا آپشن، اے آئی سے تیار کردہ اسٹیکرز اور تصاویر، اور میٹا کا نیا اے آئی سرچ انجن شامل ہیں۔ یہ فیچرز پہلے سے دستیاب آپشنز کو ایک جگہ اکٹھا کریں گے، جس سے صارفین کے لیے ان تک رسائی آسان ہو جائے گی۔
اس تبدیلی کے ساتھ کمیونیٹیز ٹیب کو ختم کر کے چیٹس سیکشن میں ضم کر دیا گیا ہے، جبکہ میٹا کاسٹیوم اے آئی بوٹس کی تیاری پر بھی کام کر رہا ہے۔ ان بوٹس کو انسٹاگرام کے اے آئی اسٹوڈیو سے زیادہ جدید اور کارآمد بنانے کا منصوبہ ہے۔
یہ اپڈیٹ فی الحال بیٹا ورژن میں آزمائش کے مراحل میں ہے، اور تمام صارفین کے لیے دستیابی کی تاریخ کا اعلان بعد میں متوقع ہے۔ واٹس ایپ کا یہ نیا قدم صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے اور ایپ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے آئی
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔