کپاس کی اچھی پیداوار GSP+ اسٹیٹس کیلیے اہم ہے، سید نذر علی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
کاٹن سپلائی چین میں کام کے بنیادی اصولوں،حقوق کے فروغ پر آگاہی سیشن کے موقع پر سیکرٹری جنرل سید نذر علی، کنسلٹنٹ گلفام نبی کا شرکاء کے ہمراہ گروپ فوٹو
کراچی (کامرس رپورٹر)ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے تعاون سے رائز فار امپیکٹ (کاٹن انڈیٹیکس پروجیکٹ) کے تحت کاٹن سپلائی چین میں کام کے بنیادی اصولوں اور حقوق کو فروغ دینے کے لیے اپنے سیشنز کی سیریز کا چوتھا آگاہی سیشن ضلع رحیم یار خان میں منعقد کیا۔اس سیشن کا مقصد کی کاشت کرنے والے زمینداروں میں کام کے بنیادی اصولوں اور حقوق (ایف پی آر ڈبلیو) کے احترام کو بڑھانا اور کاٹن سپلائی چین میںکام کے بہتر حالات کو فروغ دینا تھا۔ای ایف پی کے سیکریٹری جنرل سید نذیر علی نے سیشنز کا جائزہ پیش کرتے ہوئے ایف پی آر ڈبلیو کی اہمیت پر زور دیا اور سب کے لیے بہتر کام کے مواقع فراہم کرنے میں ای ایف پی کی کوششوں اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہتر کام کے حالات پیدا کرنا کپاس کی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے اور پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے یہ انتہائی اہم ہے۔کنسلٹنٹ گلفام نبی نے ایف پی آر ڈبلیو کے پانچ اہم شعبوں کا احاطہ کرتے ہوئے کام کے بنیادی اصولوں اور حقوق کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی۔جن میں اتحاد کا حق اور اجتماعی گفت و شنید کے حق کی مؤثر شناخت یہ یقینی بناتا ہے کہ ورکرز اور آجروں کو بغیر کسی انتقامی کارروائی یا مداخلت کے آزادانہ طور پر تنظیمیں، ٹریڈ یونینز اور آجروں کی تنظیموں میں شامل ہونے اور تشکیل دینے کا حق حاصل ہو۔جبری یا لازمی مشقت کے تمام اشکال کا خاتمہ جو کسی بھی ایسے کام یا خدمت کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے جو زبردستی، دھمکیوں یا مرضی کی کمی کے تحت انجام پائے جس میں قرض کی بندش، انسانی اسمگلنگ اور غلامی جیسے طریقے شامل ہیں۔چائلڈ لیبر کے مکمل خاتمے کا اصول یہ یقینی بناتا ہے کہ بچوں کو ایسی مشقت سے محفوظ رکھا جائے جو انہیں تعلیم، صحت اور ترقی سے محروم کر دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔