الیکٹرک وہیکلز چارجنگ اسٹیشنز کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھایا جائے، وزیراعظم کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
الیکٹرک وہیکلز چارجنگ اسٹیشنز کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھایا جائے، وزیراعظم کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں آج الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشن کیلئے بجلی کے خصوصی رعائتی نرخ کا اعلان کر دیا گیا۔
چارجنگ اسٹیشنز کیلئے بجلی کا خصوصی رعائتی نرخ موجودہ 71 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 39.
تفصیلات کے مطابق بجلی کے فی یونٹ ٹیرف برائے چارجنگ اسٹیشنزمیں 71روپے سے 39 روپے 70پیسے کمی کی بدولت اب پیٹرول اور دوسرے ایندھن کے مقابلے سفری اخراجات میں (3)گُناتک بچت ممکن ہوسکے گی اور جس کی بدولت اب کرایوں میں خاطر خواہ کمی کا بھی امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی مُلک میں پیٹرول اور دوسرے ایندھن پر انحصار کم ہونے کی وجہ سے بھاری زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔ ایک اندازے کے مُطابق اس وقت مُلک میں کروڑ موٹر سائیکل ہیں اور ان کے سالانہ ایندھن کی مد میں 6ارب ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ ان موٹر سائیکل کی الیکٹرک ٹیکنالوجی پر منتقل جوکہ اوسطاََ پچاس ہزار میں ممکن ہے، کی بدولت نہ صرف ان کو تین سے چار مہینوں میں سرمایہ پر بچت کی مد میں پورے پیسے واپس ہو جائیں گے بلکہ قیمتی زرمبادلہ کی مد میں بھی اربوں ڈالرز کی بچت ہوگی۔
اسی طرح تین پہیوں والی سواری (رکشہ) کی الیکٹرک ٹیکنالوجی کے استعمال سے اندرون شہر سفری اخراجات میں خاطر خواہ کمی کا بھی امکان ہے جس سے نہ صرف کرایوں میں واضع فرق پڑے گا بلکہ مُضر صحت گیسز کے اخراجات کو روکنے میں بھی مدد ملے گی جس سے فضائی آلودگی سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ سفری اخراجات کی کمی اثر اندرون شہر سامان کی ترسیل بھی پڑے گا اور جس کی وجہ سے ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں بھی مثبت فرق پڑے گا۔
پاور ڈویژن کے اس انقلابی اقدام کی وجہ سے جہاں ایک طرف سفری اخراجات اور اس سے متعلقہ اُمور میں مثبت تبدیلی کا امکان ہے وہاں چارجنگ اسٹیشنز اور بیٹری متبادل پوائنٹ کے گلی گلی قیام کی وجہ سے ایک مثبت کاروبار کا بھی موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ رعائتی قیمت کے ساتھ اب صرف 15 دنوں میں چارجنگ اسٹیشنز یا بیٹری پوائنٹ کے قیام کی اجازت لی جاسکتی ہے اس ضمن میں پاور ڈویژن کے ذیلی ادارے NEECA نے ون ونڈو کا قیام کر دیا ہے اور اب صرف ویب سائٹ پر جاکر رجسٹریشن کی جاسکتی ہے۔
اس ضمن میں مسابقتی مارکیٹ کو یقینی بنانے اور مُلکی و غیر مُلکی براہ راست سرمایہ کاری کو ممکن بنانے کیلئے ان ریگولیشنز کو انتہائی آسان بنایا گیا ہے اور رجسٹریشن فیس کو بھی محض 50ہزاررکھا گیاہے۔ ان ریگولیشنز کے نفاذ سے ایک تخمینہ کے تحت سال2030 تک 30فیصد الیکٹرک گاڑیوں کی شمولیت کا ہدف حاصل ہوسکے گا۔
الیکٹرک گاڑیوں اور بیٹری متبادل پوائنٹ سے متعلق ریگولیشنز پانچ مُختلف سطح پر چارجنگ ٹیکنالوجی فراہم کرنے کو سپورٹ کرتے ہیں۔ یہ ضوابط تمام عالمی اور علاقائی الیکٹرک گاڑیوں کے مینوفیکچرز کو مساوی مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ان ضوابط کے تحت چارجنگ اسٹیشنز اور بیٹری متبادل پوائنٹ کے تحفظ اور اس سے متعلق اقدامات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے جس کی باقاعدہ مانیٹرنگ اور آڈٹ بھی کیا جائے گا۔
رعائتی بجلی نرخ اور الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز سے متعلق ریگولیشنز کے اجراء سے نئے منافع بخش کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع میسر آئیں گے جس سے نہ صرف ملازمت کے نئے مواقع ملیں گے بلکہ پوری مُلکی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چارجنگ اسٹیشنز
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ