کراچی سے وسطی ایشیا کے لیے پہلا تجارتی قافلہ روانہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
کراچی: نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) اور ڈی پی ورلڈ کے درمیان شراکت داری کے تحت پہلا تجارتی قافلہ کراچی سے وسطی ایشیا کے لیے روانہ کر دیا گیا۔
این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ کی جوائنٹ وینچر کمپنی کے ذریعے تجارتی سامان سے بھرے کنٹینرز کا یہ قافلہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے روانہ ہوا ہے۔ اس موقع پر کراچی میں ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور سی ای او، سلطان احمد بن سولیم نے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے کارگو سروس کا افتتاح کیا۔
سلطان احمد بن سولیم نے اس اقدام کو خطے میں تجارت اور رابطوں کو فروغ دینے کا نیا دور قرار دیا اور کہا کہ دونوں اداروں کی شراکت داری سے پاکستان کی اقتصادی سرگرمیاں مزید تیز ہوں گی، کاروبار میں آسانی آئے گی اور ترسیل کی لاگت اور وقت میں کمی آئے گی۔
این ایل سی کے ڈائریکٹر جنرل نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے علاقائی تجارت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور پاکستانی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سروس پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی اور خطے میں تجارت کی بڑھوتری کو یقینی بنائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔