بلڈر کوپانی چوری کیلیے لائن دینے پر پی پی ٹاؤن چیئرمین کیخلاف جماعت اسلامی کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
کراچی: جماعت اسلامی گلشن معمار و سہراب گوٹھ ٹاؤن کے تحت پیپلز پارٹی کے ٹاؤن چیئرمین سہراب گوٹھ لالا رحیم کی جانب سے بلڈر کو 8 انچ پانی کی چوری کی لائین دینے کے خلاف معمار روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرین نے پیپلز پارٹی کی حکومتی سرپرستی میں گلشن ِ معمار کا پانی چوری کر کے من پسند بلڈرز کو دینے کے خلاف پُر جوش نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ گلشن ِ معمار کی لائین سے غیر قانونی کنکشن ختم کیا جائے، مظاہرے سے پبلک ایڈ کمیٹی گلشن معمار کے صدر ابوضیاء پرویز،ناظم علاقہ فخر شبیر، نائب ناظم علاقہ گلشن معمار شکیل،منتخب یوسی کونسلرز نعمان مقصود اور عاطف اللہ والا ودیگر نے خطاب کیا۔
ابوضیاء پرویز نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ واٹر بورڈ کارپوریشن کے چیئرمین مرتضیٰ وہاب سن لیں کہ گلشن معمار کے عوام کا پانی چوری کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو ہمارا اگلا احتجاج سپر ہائی وے پر ہوگا۔ رات کی تاریکی میں 8 انچ کی پانی کی لائین چوری کی گئی ہے لیکن کسی کے کانوں میں جون تک نہیں رینگ رہی۔ اگر فوری طور پر غیر قانونی کنکشن کو ختم نہیں کیا گیا تو ہم سپر ہائی وے بھی بلاک کرسکتے ہیں اس لیے متعلقہ ادارے حرکت میں آئیں، غیر قانونی کنکشن کو ختم کیا جائے۔
ابو ضیاء پرویز کا کہنا تھاکہ گلشن معمار کے عوام سراپا احتجاج ہیں، پیپلز پارٹی کے ٹاؤن چیئرمین نے رات کی تاریکی میں بلڈر کو غیر قانونی کنکشن دیا ہے، گلشن معمار کے عوام کے حصے کا پانی چوری کرکے کیوں دیا جارہا ہے، پیپلز پارٹی کے ٹاؤن چیئرمین گلشن معمار میں کوئی ترقیاتی کام تو نہیں کروارہے لیکن گلشن معمار کے عوام کا پانی چوری کرکے فروخت کررہے ہیں، پانی کا مسئلہ KDA کا ہے لیکن پیپلز پارٹی کے ٹاؤن چیئرمین اپنے دائرہ کارسے ہٹ کر غیر قانونی کنکشن دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے غیر قانونی کنکشن کے حوالے سے تمام سرکاری دفاتر میں تحریری شکایات اور درخواست دائر کی اور قابض مئیر کو بھی درخواست بھیجی لیکن تاحال کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔مظاہرے کے شرکاء نے بینرز وپلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا کہ پیپلز پارٹی سہراب گوٹھ ٹاؤن کے چیئرمین لالا رحیم کی طرف سے سماما چوک تا بنگالی موڑ پر پانی کی 8 انچ کی چوری کی لائن نامنظور، گلشن معمار و اطراف کی سوسائٹیز کے رہائشی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے ٹاؤن چیئرمین چیئرمین سہراب گوٹھ بلڈر کو 8 انچ کی چوری کی لائین ڈال کر دے رہے ہیں، لالا رحیم کی طرف سے گلشن معمار کے پانی پر ڈاکہ نامنظور، MDAاور KDA گلشن معمار میں آؤٹر ڈویلپمنٹ کا کام مکمل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا پانی چوری کی لائین بلڈر کو چوری کی پانی کی
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس