الیکشن کمیشن نے 2 سینیٹرز سمیت 119 عوامی نمائندوں کی رکنیت معطل کردی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جنوری2025ء)الیکشن کمیشن آف پاکستان ( ای سی پی) نے گوشوارے نہ جمع کرانے والے 2 سینیٹرز سمیت 119 عوامی نمائندوں کی رکنیت معطل کر دی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گوشوارے جمع نہ کروانے پر رکنیت سے محروم ہونے والوں میں ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز شامل ہیں، مجموعی طور پر 119 نمائندوں کی متعلقہ اسمبلیوں یا سینیٹ کی رکنیت معطل کی گئی۔
سینیٹ سے 2 اراکین کی رکنیت معطل کی گئی، الیکشن کمیشن نے سالانہ گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جنوری مقرر کی تھی۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق گوشوارے جمع کرانے تک یہ ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کسی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ اگر کوئی رکن گوشواروں میں غلط معلومات فراہم کرے گا تو کارروائی کی جائے گی۔(جاری ہے)
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 31 دسمبر 2024 تک قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کو گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت کی تھی، بعد ازاں تاریخ میں 15 جنوری تک توسیع کر دی تھی۔
الیکشن کمیشن نے خبردار کیا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ اہل خانہ اور زیر کفالت افراد کے گوشوارے جمع کرانے کے بھی پابند ہیں، گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین کی رکنیت معطل کردی جائے گی۔الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ گوشواروں میں غلط معلومات جمع کرانے کی صورت میں سیکشن 137 کے تحت کی کارروائی کی جائے گی۔خیال رہے کہ اکتوبر 2024 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سالانہ گوشوارے جمع نہ کرانے پر قومی اور صوبائی اسمبلی کے 18 اراکین کو نااہل قرار دے دیا تھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گوشوارے جمع کرانے کی رکنیت معطل الیکشن کمیشن
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔