جسٹس عالیہ نیلم کا دورہ قصور، نیو جوڈیشل کمپلیکس کا افتتاح کیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
دورہ قصور کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو سیشن جج قصور نے زیر التوا کیسز سے متعلق بریفنگ دی، چیف جسٹس نے سیشن سمیت دیگر ججز کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے صلح کی بنیاد پر ریپ کیسز کے ملزموں کی رہائی کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہا کہ ریپ کے ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کا دورہ قصور، سیشن کورٹ میں جوڈیشل کمپلیکس کا افتتاح کیا۔ سیشن کورٹ قصور پہنچنے پر سیشن جج طارق جاوید نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ رجسٹرار عبہر گل بھی موجود تھیں، اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی جس کے بعد چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سیشن کورٹ کے جوڈیشل کمپلیکس میں سول اور کریمنل بلاکس کا افتتاح کیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سیشن کورٹ قصور کے تمام ججز سے ملاقات کی۔
سیشن جج قصور طارق جاوید نے زیر التوا کیسز سے متعلق چیف جسٹس کو بریفنگ دی، چیف جسٹس نے سیشن جج طارق جاوید سمیت دیگر ججز کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے صلح کی بنیاد پر ریپ کیسز کے ملزموں کی رہائی کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہا کہ ریپ کے ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں، چیف جسٹس نے پرانے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی ہدایات جاری کیں۔
چیف جسٹس نے قصور بار کے نمائندوں سے ملاقات کی، قصور بار کے نمائندوں نے وکلا کی فلاح سے متعلق چیف جسٹس عالیہ نیلم کے اقدامات کی تعریف کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ وکلا برادری کے مسائل کا حل ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ سیشن جج قصور طارق جاوید کی جانب سے چیف جسٹس عالیہ نیلم اور رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ عبہر گل خان کو سوینئر بھی پیش کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لاہور ہائیکورٹ چیف جسٹس نے طارق جاوید سیشن کورٹ
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔