ایپل اپنے صارفین کے لیے دلچسپ تبدیلیاں متعارف کرانے جا رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنی ڈیوائسز کے لیے آئی او ایس 18.3، آئی پیڈ او ایس 18.3 اور میک او ایس سِیکوئیا 15.3 کی ریلیز کی تیاری کی غرض سے آئی او ایس بِیٹا 3 جاری کر دیا۔
نئے آپریٹنگ سسٹم میں کمپنی ایپل انٹیلی جنس میں کچھ تبدیلیاں کرنے جا رہی ہے جس میں نیوز اور انٹرٹینمنٹ ایپ کے لئے نوٹیفیکیشن کے خلاصے کو غیرفعال کرنا شامل ہے۔ ممکنہ طور پر یہ کمپنی کی جانب سے وقتی حل ظاہر ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے مستقبل کی آئی او ایس اپ ڈیٹس میں نوٹیفیکیشن سمریز کے فیچر کو دوبارہ فعال کر دیا جائے۔
(تصویر: MacRumors)
صارفین ان خلاصوں کے نوٹیفیکیشنز کو براہ راست لاک اسکرین سے بھی بند کر سکتے ہیں۔
کمپنی کی جانب سے نوٹیفیکیشن سمریز کے فونٹ کو بھی بدلا جا رہا ہے۔ اپ یہ نوٹیفیکشنز ’اِٹیلک‘ فونٹس میں آئیں گے تاکہ ان میں معمول کے نوٹیفیکنشز سے فرق کیا جا سکے۔
نوٹیفیکیشن میں تبدیلی کے علاوہ ایپل نئے آئی او ایس میں بگ کے حل اور کیمرا کنٹرول بٹن، میسجز اور پی ڈی ایف ایڈٹنگ میں کچھ تبدیلیاں لانے جا رہا ہے۔
ایپل کی جانب سے آئی او ایس 18.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی او ایس
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔