پاکستان کی معاشی ترقی 3 فیصد رہنے کا امکان، آئی ایم ایف کی آؤٹ لک رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
NEWYORK:
عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں مالی سال میں پاکستان کی معاشی ترقی 3 فیصد رہنے کا امکان ہے اور اگلے مالی سال میں 4 فیصد رہے گی۔
آئی ایم ایف نے مالی سال 25-2024 کی نئی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال بھارت کی معاشی ترقی 6.
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال امریکا کی معاشی ترقی 2.7 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ مالی سال امریکا کی معاشی ترقی 2.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اسی طرح چین کی معاشی ترقی 4.6 فیصد متوقع ہے جبکہ اگلے مالی سال چین کی معاشی ترقی معمولی کمی سے 4.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نے بتایا کہ برطانیہ کی رواں مالی سال معاشی ترقی 1.6 فیصد اور اگلے سال 1.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیصد رہنے کا امکان ہے رواں مالی سال کی معاشی ترقی ایم ایف
پڑھیں:
فافن کی ضمنی انتخابات پر رپورٹ جاری: ٹرن آؤٹ انتہائی کم، مہم کی پابندیوں کی خلاف ورزیاں نمایاں
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: 23 نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات پر فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے جامع رپورٹ جاری کرتے ہوئے انتخابی عمل کو مجموعی طور پر منظم اور پُرامن قرار دیا ہے، رپورٹ میں متعدد اہم خامیوں اور تشویشناک پہلوؤں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، خصوصاً انتخابی مہم کے ضابطوں کی خلاف ورزیوں اور انتہائی کم ووٹر ٹرن آؤٹ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
فافن کے مطابق مبصرین نے پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کے عمل کو مجموعی طور پر منظم، پُرامن اور قواعد کے مطابق پایا۔ 98 فیصد مشاہدہ شدہ پولنگ بوتھوں میں بیلٹ باکسز کے تمام مطلوبہ چار سیل درست حالت میں موجود تھے جب کہ 96 فیصد بوتھوں پر سیکریسی اسکرینیں بھی مناسب طور پر نصب تھیں اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران نے بیلٹ پیپرز جاری کرنے کے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت کے تسلسل کی نشاندہی ہوتی ہے۔
فافن نے انتخابی مہم کے دوران ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزیوں کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا،مشاہدے کے 238 پولنگ اسٹیشنوں کے قریب 465 سے زائد سیاسی جماعتوں کے کیمپس قائم تھے جب کہ 184 پولنگ اسٹیشنوں کے باہر ووٹرز کو نقل و حمل کی سہولت فراہم کی جا رہی تھی، جو الیکشن قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ کئی پولنگ بوتھوں پر بیلٹ پیپرز سے متعلق غیر ضروری پیشگی کارروائیاں دیکھنے میں آئیں، مشاہدے کے مطابق 29 فیصد بوتھوں پر پریزائیڈنگ افسران نے پہلے سے بیلٹ پیپرز پر دستخط کیے ہوئے تھے جبکہ 28 فیصد بوتھوں پر بیلٹ پیپرز پہلے سے مہرشدہ حالت میں موجود تھے۔ اگرچہ یہ عمل قانونی طور پر جرم نہیں، تاہم فافن کے مطابق اس سے بیلٹ کے غلط استعمال کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
نتائج کی شفافیت کے حوالے سے بھی کئی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ فافن کے مطابق 6 پولنگ اسٹیشنوں پر پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 فراہم نہیں کیا، جب کہ مشاہدہ کیے گئے 19 فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر نہ فارم 45 باہر آویزاں کیا گیا اور نہ ہی 19 فیصد اسٹیشنوں پر فارم 46 پولنگ ایجنٹس کو دیا گیا۔ مزید یہ کہ 43 فیصد مشاہدہ شدہ پولنگ اسٹیشنوں پر پریزائیڈنگ افسران پولنگ ایجنٹس سے فارمز پر دستخط کروانے میں ناکام رہے، جو انتخابی نتائج کی شفافیت پر سوالات اٹھاتا ہے۔
سب سے تشویشناک پہلو انتہائی کم ووٹر ٹرن آؤٹ رہا۔ فافن کے مطابق مجموعی ٹرن آؤٹ مردوں اور خواتین دونوں کے لیے محض 23 فیصد ریکارڈ ہوا، جبکہ صرف ایک حلقے میں ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زائد رہا، جو عوام کے انتخابی رجحان میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس کے باوجود پولنگ ایجنٹس نے انتخابی عمل پر مجموعی اطمینان کا اظہار کیا۔ فافن کے مطابق 97 فیصد پولنگ ایجنٹس نے پولنگ کے طریقہ کار پر اعتماد ظاہر کیا، جبکہ گنتی کے بعد انٹرویو کیے گئے 137 پولنگ ایجنٹس نے بھی گنتی کے عمل کو تسلی بخش قرار دیا۔
فافن کی اس رپورٹ نے الیکشن کمیشن اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ انتخابی عمل کو مزید شفاف، موثر اور ضابطہ اخلاق کے مطابق بنانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں۔