UrduPoint:
2026-07-24@13:43:04 GMT

جنہیں بہتر مستقبل کی تلاش موت تک لے گئی

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT

جنہیں بہتر مستقبل کی تلاش موت تک لے گئی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 18 جنوری 2025ء) مغربی افریقہ کے اٹلانٹک کے ساحلی علاقے سے اسپین پہنچنے کی کوشش کے دوران کشتی غرق ہونے کے نتیجے میں پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں سے چوالیس پاکستانی تھے۔ بتایا گیا ہے کہ بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والے ان پاکستانیوں میں سے تقریباﹰ تمام کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔

دو جنوری کو تارکین وطن سے بھری یہ کشتی اسپین کے جزائر کیناری کی جانب روانہ ہوئی تھی، تاہم راستے میں یہ سمندری لہروں سے شکست کھاتے ہوئے ڈوب گئی تھی۔ اس واقعے پر پاکستانی صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ کشتی مغربی افریقی ملک موریطانیہ سے روانہ ہوئی تھی اور اس پر 80 تارکین وطن سوار تھے۔

(جاری ہے)

یہ کشتی مراکش کے شہر داخلہ کے قریب غرق ہو گئی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق متاثرہ افراد کے گھروں میں اس وقت سوگ کا عالم ہے اور بعض خاندانوں کو یہی معلوم نہیں کہ آیا ان کا بیٹا اس واقعے میں ہلاک ہو گیا ہے یا بچا لیے گئے تیس افراد میں شامل ہے۔

صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کے گاؤں ڈھولا میں احمد شہزاد نامی ایک شخص نے اے پی کو بتایا کہ ان کا بیٹا سفیان علی اس واقعے میں ہلاک ہو گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں ان کے بیٹے کی جانب سے ایک وائس میسج ملا تھا، جس میں سفیان علی نے کہا تھا کہ انہیں دیگر پچیس افراد کے ساتھ ایک ایسی کشتی میں جبراﹰ بٹھایا جا رہا ہے، جو پہلے ہی بھری ہوئی ہے۔ احمد شہزاد نے بتایا کہ ان کا بھتیجا بھی اس واقعے میں ہلاک ہو گیا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ان کی بیٹے اور بھتیجے کی میتوں کو پاکستان واپس لانے میں مدد کی جائے۔

گجرات ہی کے ایک اور گاؤں جُوڑہ میں محمد اکرم نے اس واقعے میں اپنا بیٹا کھو دینے کا بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا ابوبکر لاکھوں روپے انسانی اسمگلروں کو ادا کر کے بذریعہ جہاز مراکش پہنچا تھا اور اسے معلوم نہیں تھا کہ اسے یورپ کے سفر کے لیے کشتی میں بٹھایا جائے گا۔

ڈسکہ کے علاقے میں ایک خاندان نے بتایا کہ انہوں نے اپنی جائیداد بیچ کر ارسلان احمد اور محمد عرفان کو یورپ بھیجنے کے لیے پیسے انسانوں کے اسمگلروں کو ادا کیے تھے۔

ارسلان احمد کی والدہ کے مطابق انہوں نے سنا ہے کہان کا بیٹا بچا لیا گیا ہے، تاہم وہ اب تک اس سے رابطے میں ناکام ہیں۔ محمد عرفان کی والدہ کا ایسوسی ایٹڈ پریس کو کہنا تھا کہ حکومت ان کے بیٹے کا پتا لگائے اور اسے وطن واپس لائے۔

واضح رہے کہ سالانہ بنیادوں پر لاکھوں افراد یورپ کی جانب ہجرت کرتے ہیں، جن میں بڑی تعداد قانونی طریقوں سے یورپ پہنچنے والوں کی ہوتی ہے۔ تاہم بعض افراد غیر قانونی طریقوں سے انسانوں کے اسمگلروں کی مدد سے یورپ پہنچنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ یورپی یونین کی سرحدی حفاظتی ایجنسی فرنٹیکس کے مطابق گزشتہ برس تقریباﹰ دو لاکھ چالیس ہزار افراد بغیر جائز سفری دستاویزات کے یورپ پہنچے۔

ع ت/ م م (اے پی)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اس واقعے میں ان کا بیٹا ہلاک ہو تھا کہ گیا ہے

پڑھیں:

کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت

کراچی کی قدیم لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران وہاں سے پرانے مجسمے دریافت ہوئے ہیں۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں واقعی لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثار قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔انہوں نے بتایا کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران 2 قدیم طرز کے مجسمے برآمد ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ لی مارکیٹ میں سے ملنے والی اشیا کی ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے جانچ کرائی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ دریافت ہونے والے مجسموں کی عمر اور تاریخی اہمیت کا تعین ماہرین کریں گے۔مرضی وہاب نے بتایا کہ تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے دریافت ہونے والی اشیا کی مکمل دستاویزات اورریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔میئر کراچی کا کہنا تھا کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران دریافت ہونے والی اشیا کو محفوظ کرلیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کے ایم سی شہر کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور لی مارکیٹ سے ملنے والی اشیا کا سائنسی معائنہ کرایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ تاریخی نوعیت کی دریافت پر لی مارکیٹ میں مزید کھدائی احتیاط سے کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ