غزہ؛ حماس کے ہاتھوں 10 سال قبل اغوا اور قتل کیے گئے اسرائیلی فوجی کی لاش مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
اسرائیلی فوج کو غزہ میں حالیہ خفیہ آپریشن کے دوران اپنے ایک ساتھی کی لاش کی باقیات ملی ہیں جسے 2014 میں حماس نے اغوا کرکے قتل کردیا تھا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق رات گئے ہونے والے اس خفیہ ملٹری آپریشن میں فوج، شن بیٹ ایجنسی اور نیول کمانڈو یونٹس نے حصہ لیا تھا۔
فوجی اہلکار کی لاش کو اسرائیل واپس لایا گیا اور ابو کبیر فرانزک انسٹی ٹیوٹ میں جانچ کی گئی۔ جہاں لاش کی شناخت اسٹاف سارجنٹ اورون شال کے نام سے ہوئی۔
ارون شال کو 2014 کی ایک جھڑپ میں حماس نے یرغمال بنالیا تھا اور مبینہ طور پر بعد میں قتل کردیا تھا۔
حماس کے ساتھ اسی جھڑپ میں لاپتا ہونے والے ایک اور سپاہی ہیڈر گولڈن کی لاش کی تلاش بھی جاری ہے۔
یاد رہے کہ یہ جھڑپ 20 جولائی 2014 کو ہوئی تھی جسے اسرائیل میں آپریشن پروٹیکٹیو ایج کے نام سے جانا جاتا ہے۔
غزہ شہر کے شیجائیہ محلے میں ملٹری آپریشن کے لیے گولانی بریگیڈ کی 13ویں بٹالین کا دستہ بکتر بند گاڑی میں داخل ہوئے تھے۔
تاہم یہ گاڑی ایک تنگ گلی میں پھنس گئی اور اس دوران حماس نے ٹینک شکن میزائلوں سے حملہ کیا۔ جس میں 7 فوجی مارے گئے تھے۔
حماس مارے گئے اسرائیلی فوجیوں کی لاشیں اور اسلحہ ساتھ لے گئے تھے۔
گزشتہ دس برسوں سے مقتول فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ لاشوں کی واپسی کے لیے اسرائیلی حکومت کے خلاف مظاہرے کرتے آئے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوجی کی لاش اس وقت ملی ہے جب حماس اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پا چکا ہے۔
حماس 34 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردے گا جن میں زیادہ تر خواتین اور بزرگ مغوی شامل ہوں گے۔
گزشتہ برس 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں 1500 اسرائیلی مارے گئے اور 251 کو یرغمال بناکر غزہ لایا گیا تھا۔
ان 251 یرغمالیوں میں سے حماس نے ابتدائی جنگ بندی معاہدے کے تحت 109 کو رہا کردیا تھا جب کہ 8 کو اسرائیلی فوج نے بازیاب کرایا۔ 40 کی لاشیں ملیں اور 94 اب بھی یرغمال ہیں۔
ہلاک ہونے والے یرغمالیوں میں سے 3 اپنے ہی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے جب کہ باقی قید سے فرار ہونے کی کوشش میں مارے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کی لاش
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز