پاکستان ڈیجیٹل فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ انیشیٹو نافذ کرنیوالا پہلا ملک بن گیا. سال2024 میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.2 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ورلڈ اکنامک فورم کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی آئی ٹی برآمدات میں سالانہ 24 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ڈیجیٹل سروسز کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا عکاس ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت پاکستان نے 18 اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کو فعال کیا ہے، جبکہ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز ٹیکس چھوٹ، فارن ایکسچینج اکاؤنٹس سہولت فراہم کرتے ہیں.

اس کے علاوہ اسپیشل ٹیکالوجی زونز ڈیوٹی فری درآمدات کے ذریعے سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہیں۔حالیہ برسوں میں کمی کے باوجود  2022 میں اسٹارٹ اپس نے 355 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی، جبکہ اسٹارٹ اپس سرمایہ کاری میں جس میں فِن ٹیک، ایڈ ٹیک، اور ایگری ٹیک نمایاں شعبے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں پاکستان کی موبائل براڈ بینڈ رسائی 58.4 فیصد تک بڑھ گئی. پاکستان کے 142 ملین سے زیادہ موبائل براڈ بینڈ صارفین ڈیجیٹل شمولیت میں اہم پیشرفت ہیں۔ورلڈ اکنامک فورم نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کی بھی تعریف  کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان اقتصادی ترقی، برآمدات، اور ڈیجیٹل گورننس پر توجہ مرکوزکرتا ہے۔و رلڈ اکنامک فورم کے مطابق ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایک جامع ڈیجیٹل تبدیلی کا منصوبہ ہے،جبکہ  ایس ٹی ذی اے اور آسان کاروبار ایکٹ کے نفاذ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔حکومت پاکستان کی جانب سے ڈیجیٹل ہنر مند ورک فورس کی تیاری کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ اسپیکٹرم مینجمنٹ میں اصلاحات سے کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ایمازون اور گوگل جیسی بڑی کمپنیوں کا مقامی سرگرمیوں کا آغاز پاکستان کے ڈیجیٹل نظام پر اعتماد ہے. اس کے علاوہ ورلڈ اکنامک فورم نے مستحکم ٹیکس پالیسی ورچوئل ایس ٹی ذیزکے نفاذ اس کے علاوہ اسپیکٹرم نیلامی میں تیزی، انٹیلیکچوئل پراپرٹی قوانین کو مضبوط کرنے کی سفارش کی ہے۔رپورٹ کے مطابق کم خدمات یافتہ علاقوں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم