اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 جنوری2025ء) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب عالمی اقتصادی فورم 2025 کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے سوئس شہر ڈیووس روانہ ہو گئے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 20 سے 24 جنوری تک جاری رہنے والے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے دوران مختلف ممالک اور عالمی اداروں کے سیاسی، تجارتی و کاروباری راہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

وزیر خزانہ دورہ کے دوران مختلف نشستوں اور مذاکروں سے خطاب کے دوران ملک کے معاشی منظر نامے کو واضح کریں گے۔وہ فورم کے دوران ترقی پذیر معیشتوں پر عالمی قرضوں کے بڑھتے بوجھ کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی مذاکرے میں بطور پینلسٹ شریک ہوں گے۔وزیر خزانہ اپنی گفتگو میں مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی اور قرضوں میں پائیداری کے ذریعے مضبوط اور لچکدار معیشتوں کے قیام پر نقطہ نظر بیان کریں گے۔

(جاری ہے)

وزیر خزانہ فورم کے دوران تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں نئی ٹیکنالوجیز بالخصوص اے آئی اور خودکاری کے انقلاب آفرین اثرات پر ایک اعلیٰ سطح کے مذاکرے میں بھی بطور پینلسٹ شریک ہوں گے۔وزیر خزانہ ٹیکنالوجیز کے استعمال سے درست اور منافع بخش تجارت اور سرمایہ کاری کے حصول کے مختلف پہلوؤں پر خیالات کا اظہار کریں گے۔دورہ کے دوران وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سعودی عرب، مصر اور قطر کےوزرا سے ملاقاتیں کریں گے۔

فورم میں شرکت کے دوران وزیر خزانہ کی عالمی مالیاتی و کاروباری اداروں،پائیدار ترقی میں شریک عالمی تنظیموں اور سرمایہ کار اور کمرشل بنکوں بالخصوص مشرق وسطی کے سرمایہ کار بنکوں کے حکام سے بھی ملاقاتیں ہوں گی۔وزیر خزانہ دورہ کے دوران پاتھ فائنڈر گروپ کے زیر اہتمام’’ڈیجیٹل پاکستان‘‘ اور’’پاکستان میں سرمایہ کاری‘‘ کے موضوعات پر دو علیحدہ مذاکروں میں خصوصی طور پر شریک ہوں گے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب دورہ کے دوران منتخب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو انٹرویوز بھی دیں گے۔ عالمی اقتصادی فورم کا 55 واں سالانہ اجلاس ’’سمارٹ ٹیکنالوجیز کے دور سے ہم آہنگ رہنے کے لئے تعاون‘‘ کے نعرے کے تحت منعقد ہو رہا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں متعدد سربراہان مملکت اور حکومتوں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے رہنما شریک ہو رہے ہیں۔

نجی شعبے کے ایک ہزار سے زائد اعلیٰ سطحی نمائندے، نوجوان رہنما، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ فورم میں حکومتوں اور بڑی بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کے درمیان مختلف اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں میں شراکتوں اور بین الاقوامی تعاون پر مبنی حل پیش کئے جائیں گے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عالمی اقتصادی فورم محمد اورنگزیب دورہ کے دوران گے وزیر خزانہ سالانہ اجلاس شریک ہوں گے میں شرکت کے فورم میں کریں گے

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسلام آباد:

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔

سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔

کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔

سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا