حکومت کا 8 فروری یوم تعمیر وترقی کے طور پر منانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے 8 فروری کو یوم تعمیر و ترقی کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔واضح رہے کہ 8 فروری 2024 کو ملک بھر میں عام انتخابات منعقد ہوئے تھے، عمران خان نے اس دن یوم سیاہ منانے کا اعلان کر رکھا ہے، وہ با رہا الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا مار کر فارم 47 کی جعلی حکومت مسلط کر دی گئی۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ سال کامیابیوں کا سال ہے، اسپورٹس مین اسپرٹس سے ہی معاملات اچھے طریقے سے آگے بڑھتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اب ہم چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کرنے جا رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اتنے عرصے کے بعد اتنے بڑے ٹورنامنٹ کا پاکستان میں ہونا خوش نصیبی ہے، ہمارے کرکٹ گراؤنڈز میں رونقیں لوٹ آئیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی تمام بہترین ٹیمیں پاکستان آئیں گی، شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے گی، مزید کہنا تھا کہ چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے تمام انتظامات مکمل ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ معیشت کے حوالے سے اچھی خبریں آرہی ہیں، مہنگائی کم ہو رہی ہے، شرح سود نیچے جا رہی ہے، اسٹاک مارکیٹ اوپر جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 8 فروری کو یوم تعمیر و ترقی کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے، اسی طرح اچھا کردار ادا کرنے والے افراد کو بلا کر ایوارڈز دیے جائیں گے، ملک کے نوجوانوں کی خدمات کا اعتراف کیا جائے گا، انتخابات کے بعد یہ سال بہت اہم ثابت ہوا ہے۔
چیمپیئنزٹرافی:بھارت نے میزبان پاکستان کا نام جرسی پر لکھنے سے انکار کردیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: منانے کا اعلان
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔