وزیراعظم کی قومی اسمبلی آمد , پی ٹی آئی ارکان کا احتجاج، ایوان مچھلی بازار بن گیا, تقریر کیے بغیر واپس روانہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کی قومی اسمبلی آمد کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ارکان کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور ’اوووو‘ ’اوووو‘ کی آوازیں لگانا شروع کردیں جب کہ مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے بھی جوابی نعرے بازی کی تاہم شہباز شریف ایوان سے خطاب کیے بغیر واپس روانہ ہوگئے۔قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا، ایوان کی کارروائی کے دوران مرد اور خواتین ووٹروں میں پائے جانے والے فرق سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 2018 میں فرق 11.
بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کل دن 2 بجے تک ملتوی کر دیا۔اس کے علاوہ، چاروں صوبوں اور اسلام آباد سے اقلیت نشست دینے کا بل مؤخر ہوگیا.وزیرقانون نے کہا کہ یہ بل پہلے سے زیر غور ہے۔نیکسس بین الاقوامی یونیورسٹی ہیلتھ اینڈ ٹیکنالوجیز کے قیام کا بل پیش کیا گیا. بل انجم عقیل خان نے پیش کیا. نیکسس بین الاقوامی یونیورسٹی ہیلتھ اینڈ ٹیکنالوجیز کے قیام کا منظور کرلیا گیا۔پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے 25 فیصد غریب بچوں کو اسکالرشپ دینے کی ترمیم پیش کی .جس پر وزیر قانون نے کہا کہ اس کو 25 کے بجائے 10 فیصد کردیا جائے، نوید قمر نے کہا کہ آج بل کو پاس کرنے دیں بعد میں ترمیم کرسکتے ہیں۔بین الاقوامی امتحانی بورڈ بل 2024 موخر کردیا گیا. رانا قاسم نون کا کہنا تھا کہ اس سے سالانہ اربوں روپوں کی بچت ہوگی. بین الاقوامی ادارے بہت سارا سرمایہ بیرون ملک لے جاتے ہیں۔وزیر قانون نے کہا کہ اس بل کو اگلے ایجنڈے پر لایا جائے جب کہ وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ اہم بل ہے اس پر مزید غور کرنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بین الاقوامی قومی اسمبلی تحریک انصاف وزیراعظم کی اراکین نے نے کہا کہ پیش کیا پیش کی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔