ریاست عوام کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کررہی،ایمل ولی خان
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ آج قوم اپنے نمائندوں کے چناؤ کے اختیار سے محروم ہے، ریاست عوام کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کررہی ہے،ہر آنے والے انتخابات پچھلے انتخابات سے مزید دھاندلی زدہ ہوتے
ہیں،2013 میں دوسری پارٹیاں الیکشن مہم چلارہی تھیں ہم جنازے اٹھا رہے تھے،2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر قوم کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا،اس دفعہ عوام کے مینڈیٹ کو پیسوں کے عوض بیچ کر غیر نظریاتی لوگوں کو پارلیمان میں بٹھایا گیا،بدقسمتی سے موجودہ وقت میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کمپرومائزڈ ہیں، پختونخوا کی سرزمین پر انتخابات میں ڈراما رچا کر غیر سنجیدہ لوگوں کو مینڈیٹ دیا گیا ،آج پاکستان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں،جمہوریت اور نظام کو ملک میں نافذ غیر اعلانیہ مارشل لاسے بدنام کیا جارہا ہے،اختیار دن بدن دفاعی اداروں کے سپرد ہورہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو جناح گراؤنڈ کراچی میں باچا خان کی 35ویں اور قائد جمہوریت خان عبدالولی خان کی 19 ویں برسی کی مناسبت سے عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے زیر اہتمام جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ایمل ولی خان کا کہنا تھاکہ فخر کرتے ہیں کہ باچا خان نے 37 سال قید کاٹی ہے لیکن تاریخ میں آزاد ہے،باچا خان اور ولی خان کی تاریخ آزاد ہے آج اس پر تحقیق ہورہی ہے، اس سرزمین پر جب بھی امن اور جمہوریت کے گن گائے جائیں گے ولی خان کا نام اس میں شامل ہوگا ، واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پختون قوم اپنے قدرتی وسائل پر کوئی کمپرومائزڈ نہیں کرے گی،ہم نے امن کے لیے اور دہشتگردی کے خلاف جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ ہم باچا خان کے پیروکار ہیں کوئی ہم سے یہ توقع نہ رکھے کہ ہم جمہوریت کے خلاف کھڑے ہوں گے،ہم سے کبھی کوئی یہ توقع نہ رکھے کہ ہم امن کے خلاف دہشت اور وحشت کے ساتھ کھڑے ہونگے،ہم کبھی بھی مظلوم کے خلاف ظالم کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔جلسے سے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد سلیم خان، صوبائی صدر سندھ شاہی سید، جنرل سیکرٹری یونس بونیری، صدر اے این پی پختونخوا میاں افتخار حسین، جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
ایمل ولی
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: باچا خان ایمل ولی کے خلاف ولی خان
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔