ملتان، گیس ٹینکر دھماکے سے پھٹ گیا، 5 افراد جاں بحق، نشتر اسپتال میں ایمرجنسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
ملتان، گیس ٹینکر دھماکے سے پھٹ گیا، 5 افراد جاں بحق، نشتر اسپتال میں ایمرجنسی نافذ WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2025 سب نیوز
ملتان: فہد ٹاؤن کے علاقے حامد پور چوک میں ایل پی جی گیس سے بھرے ٹینکر میں گیس لیکیج کے باعث دھماکے سے آگ لگنے کے نتیجے میں ہونے والی آتشزدگی سے 5 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ لگنے سے 5 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے جنہیں نشتر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور پانچ گھنٹے طویل آپریشن کے بعد آگ پر قابو پا لیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ کے باعث ٹینکر پھٹنے سے بستی حامد پور کے کچھ گھروں میں بھی آگ پھیل گئی، جس سے متعدد مکانات کو نقصان پہنچا اور گھروں کی چھتیں گر گئیں۔ بعض گھروں میں موجود مویشی بھی آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔
ریسکیو آپریشن میں 16 سے زائد گاڑیوں نے حصہ لیا، کولنگ کا عمل ابھی تک جاری ہے۔
دوسری جانب نشتر اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، نشتر اسپال کے ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر زاہد کی زیر قیادت اضافی بستروں اور عملے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے 5 افراد جو اسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گئے، ان کی لاشیں بھی اسپتال پہنچا دی گئی ہیں۔
ریکسیو ذرائع کے مطابق 28 زخمیوں کو نشتر ایمرجنسی سے پاک اٹالین برن یونٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر پاک اٹالین برن یونٹ پروفیسر ڈاکٹر راشد قمر راؤ موقع پر پہنچ گئے ہیں، دو معمولی نوعیت کے زخمی مریضوں کو ابتدائی طبی امداد دے کر ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
زرائع کے مطابق 26 مریض نشتر اسپتال کے پاک اٹالین ماڈرن برن یونٹ میں زیر علاج ہیں، جن میں 14 خواتین، 3 بچے اور 9 مرد شامل ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے اور کولنگ کے عمل کے مکمل ہونے تک صورتحال کو کنٹرول کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افراد جاں بحق نشتر اسپتال
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔