آپ پہلے اپنا مائنڈڈسکلوز کر چکے ہیں، کیس کسی دوسرے بنچ کو منتقل کردیا جائے،عدت کیس میں بانی و اہلیہ کے وکلا نے جج اعظم خان پر عدم اعتماد کااظہار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلا نے عدت کیس میں بریت کیخلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران جج اعظم خان پر عدم اعتماد کااظہار کردیا۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عدت کیس میں بریت کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس اعظم خان نے سماعت کی، وکیل شعیب شاہین نے کہاکہ دلائل دینے سے پہلے ہم کچھ کہنا چاہ رہے ہیں،آپ پہلے اپنا مائنڈڈسکلوز کر چکے ہیں، کیس کسی دوسرے بنچ کو منتقل کردیا جائے،جسٹس اعظم خان نے کہاکہ ہم نے ایک آرڈر کیخلاف نظرثانی درخواست سنی تھی،ہم نیا بنچ تشکیل دینے کیلئے فائل چیف جسٹس کو بھیج دیتے ہیں،عدالت نے بانی و اہلیہ کی بریت کیخلاف اپیل کی فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی،کیس چیف جسٹس عامر فاروق کو نیا بنچ تشکیل دینے کیلئے بھیجا گیا۔
نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج، شرح سود میں 2 فیصد تک کمی متوقع
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
امریکی فوجی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ حالیہ ایرانی حملوں میں شدید زخمی ہونے والے تقریباً 10 امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے جرمنی میں واقع امریکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق، یہ فوجی ان تقریباً 100 امریکی اہلکاروں میں شامل ہیں جو جولائی کے اوائل سے مختلف حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی حملوں میں زخمی امریکی فوجیوں میں سے 10 کو جرمنی منتقل کر دیا گیا۔ ایک امریکی فوجی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ حالیہ ایرانی حملوں میں شدید زخمی ہونے والے تقریباً 10 امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے جرمنی میں واقع امریکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق، یہ فوجی ان تقریباً 100 امریکی اہلکاروں میں شامل ہیں جو جولائی کے اوائل سے مختلف حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ زخمی ہونے والے بیشتر فوجیوں کو صرف معمولی دماغی چوٹیں آئی تھیں اور ان میں سے زیادہ تر اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔