سوڈان میں اسپتال پر ڈرون حملہ، 70 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
سوڈان کے دارفور علاقے میں سعودی اسپتال پر باغی فورسز کے حملے کے نتیجے میں 70 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سعودی ٹیچنگ میٹرنل اسپتال کو باغی فورسز نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 70 تک پہنچ چکی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے بتایا کہ سعودی ٹیچنگ میٹرنل اسپتال پورے علاقے کا واحد صحتی مرکز تھا اور حملے میں مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس حملے کے بعد علاقے میں علاج کی سہولتوں کی شدید کمی ہو گی اور صحت کے شعبے میں بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سوڈانی حکام کے مطابق یہ حملہ باغی فورسز کی جانب سے کئے جانے والے مسلسل حملوں کا حصہ ہے، جنہوں نے اس سے قبل تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو بھی نشانہ بنایا۔ اسپتال پر حملے کے بعد اموات میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف سعودی عرب نے سوڈان میں اسپتال پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے اور اس پر عالمی برادری کو غور کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسپتال پر
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔