سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنا مجبوری ہے، بل صحافیوں کے خلاف نہیں، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کے سینیٹر طلال چودھری نے کہا ہے کہ صحافیوں کے بغیر ایوان نامکمل ہوتا ہے، بل میں صحافیوں کے خلاف ایسا کچھ نہیں ہے، آپ کے خدشات ہم اپنی قیادت تک ضرور پہنچائیں گے۔
سینیٹر طلال چودھری نے ان خیالات کا اظہار احتجاج کرنے والے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ آپ کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے، سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ کوئی نہ کوئی کسی پر تہمت تو کسی پر فتویٰ لگا دیا جاتا ہے۔
سینیٹر طلال چودھری نے کہا یہ بل صحافیوں کے خلاف ہو ہی نہیں سکتا اور ہونا بھی نہیں چاہیے۔ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے اور مجبوری ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہم آپ کی بات اپنے سینئر اور وزیراعظم تک پہنچائیں گے۔ آپ مہربانی کر کے اپنا بائیکاٹ ختم کر دیں۔
ایپل کا سستا ترین آئی فون جلد متعارف کرائے جانے کا امکان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: صحافیوں کے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :