گاڑیوں پر ایف بی آر کو رنگے ہاتھوں پکڑا تو ریڈز پڑنے لگیں، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
اسلام آباد:
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ایف بی آر کو رنگے ہاتھوں پکڑا جس کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی فنانس نے نوٹس لیا۔ جس کے بعد انڈس موٹرز، ٹیوٹا موٹرز پر ریڈز شروع ہوگئیں جن کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ وہ سینٹ میں اظہار خیال کررہے تھے ۔
انھوں نے کہا ناصرف ریڈز کیے گئے بلکہ جلدی سے سرچ وارنٹس بھی نکلوالیے گئے۔ انہوں نے کہا کیا وہاں منشیات تھیں اور ہتھیار تھے ۔ انسانی اسمگلنگ ہورہی تھی یا کوئی پاکستان مخالف کام ہورہا تھا۔ جیسے ہی انہیں پتا چلا ان ریڈز کے حوالے سے میرے پاس ڈاکومنٹس آگئے ہیں تو اس پر پردہ ڈالنے کیلئے دوسری جگہوں پر بھی ریڈ کرنے شروع کردیے گئے۔
فیصل واوڈا نے کہا یہی وجہ ہے کہ کوئی کھڑا نہیں ہوتا بلکہ مافیا کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ ’’ان ٹچ ایبل ‘‘ ہوتے ہیں ۔ چھاپے مارتے ہیں۔ بدلے لیتے ہیں اور جعلی کیس بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا MORE FUNDS FOR THE ACCEPTABILITY OF THE CHAIRMAN FBR.
انہوں نے کہا کہ کسی اخبار میں اشتہار نہیں دیا گیا ایف بی آر کا ٹوٹل اسٹاف ایک ہزار 87 افراد پر مشتمل ہے اور اتنی ہی 1087 گاڑیاں خریدنے کی منظوری دی گئی جسے بعدازاں کم کر کے 1010 کردیا گیا۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ یہ 384 ارب کا اپنا ٹیکس ہدف تو پورا نہیں کرسکے ۔ انہوں نے کہا کابینہ سے جس سمری کی منظوری لی گئی اس میں کیٹیگری ون کے ملازمین کیلئے ماہانہ سیلری کے چار بونس، کیٹیگری 2 کے لئے 3 بونس ، کیٹیگری 3 کیلئے 2 سیلری بونس دینے کی بھی شق ڈالی گئی مگر کابینہ ارکان نے اس حصے کو دیکھنا تک گوارا نہ کیا، اب یہ قومی خزانے کا اربوں روپیہ بونسز کی شکل میں ہڑپ کر جائیں گے۔
انہوں نے کہا خاص کمپنی کو فائدہ پہنچانے کیلئے گاڑی کی اوپری حد 1300 سی سی رکھی گئی ہے چونکہ کاروں کی نچلی حد مقرر نہیں ہے لہذا میں نے تجویز کیا اور پوچھا کہ سوزوکی آلٹو 660 سی سی یا دوسری کمپنیوں کی کاریں کیوں نہیں لی جارہیں۔ میں نے کہا سمری کی دوبارہ اپروول لیں اور مسابقت میں دوسری گاڑیاں جیسا کہ کیا، نیسان، ہنڈائی اور چانگن وغیرہ کو بھی شامل کیا جائے۔
میں نے یہ تجویز معاملہ اٹھنے سے پہلے خاموشی سے دے دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزراء کہتے تھے کہ آپ کہہ تو ٹھیک رہے ہیں لیکن ہم بے بس ہیں ۔ یہ معاملہ ہم سے اوپر کا ہے۔ وزیر خزانہ اور وزیر مملکت برائے خزانہ نے بھی اس سے اتفاق کیا۔ بعدازاں خواجہ آصف سامنے آئے اور ٹویٹ کے ذریعے ہمیں مورد الزام ٹھہرایا۔
کمیٹی کے ن لیگی ممبرز اور دوسرے ارکان نے بھی ہمارا شکریہ ادا کیا۔ اس کی تصدیق میٹنگ منٹس سے بھی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا فیصل واوڈا پاکستان کے اربوں روپے بچانے کی کوشش کررہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا فیصل واوڈا
پڑھیں:
کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔
صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔
انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔
گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔
انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔
ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گورنر سندھ نہال ہاشمی