پی ٹی وی میں ڈگریوں کی تصدیق 31 جنوری تک مکمل کر لیں گے‘ عطاتارڑ
اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ اسوقت پی ٹی وی میں 12 لاکھ روپے ماہانہ سے اوپر کوئی اینکر نہیں‘میں نے نجی چینلز سے اینکر لا کر مالکان سے تلخیاں مول لیں‘ پی ٹی وی کے ذمہ آئی سی سی کی ادائیگیاں ایک ارب روپے سے تجاوز کر گئی تھیں۔میچ کے دوران
اچانک نشریات بند ہو گئیں،پی ٹی وی میں ڈگریوں کی تصدیق 31 جنوری تک مکمل کر لیں گے‘ جعلی ڈگری والے 200 ملازمین بھی نکالنے پڑے تو نکالوں گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ریڈیو پاکستان کے 3800 پینشنرز میں سے تین سو گھوسٹ پینشنر تھے۔ہم گھوسٹ پینشنرز کی نشاندہی کر کے کیسز ایف آئی اے کو بھجوا رہے ہیں۔قائمہ کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کی کرایے پر دی گئی عمارتوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس پولین بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں رکن کمیٹی سحر کامران نے کہا کہ پی ٹی وی میں حال ہی میں بھرتی کیے گئے اینکرز کی تفصیلات مانگی تھیں پی ٹی وی کا حال بھی اسٹیل ملز سے بدتر ہو گیا ہے نئی بھرتیاں کی جا رہی ہیں لیکن ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی جا رہیں۔پی ٹی وی میں یو ٹیوبرز کو لا کر بٹھا دیا گیا ہے ایجوکیشن چینل کا پی سی ون تاحال کیوں تیار نہیں کیا گیا۔سیکرٹری اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پی ٹی وی کے سات میں سے ایک چینل کو بند کر دیا گیا ہے۔پہلے ہی فنڈز نہیں ہیں، ایک اور چینل بنا دیا تو بحران سنگین ہو جائے گا۔ پی ٹی وی کے ملازمین کو دسمبر کی تنخواہ 21 جنوری کو ادا کی گئی ہیایجوکیشن کانٹینٹ چلانے کیلئے برٹش کونسل سے بات چل رہی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پی ٹی وی میں وہ اینکر رکھے جاتے تھے جن کی شکل وزیر کو پسند ہوتی تھی میں آتے ہی سارے پروگرامز بند کیے میں نے پرائیویٹ میڈیا سے اینکرز بھرتی کیے ہیں اب اپوزیشن کے حق میں بولنے والے تجزیہ کار بھی پی ٹی وی کے پروگرامز میں آتے ہیں جو سفارشی بھرتی ہوئے تھے ان کے نام بھی میں نہیں جانتا تھا گزشتہ دور میں ایک ریسرچر کو اٹھا کر اینکر بنا دیا گیا تھاہم نے اینکرز کو کہا ہے کہ جو اشتہار آپ لے کر آئیں گے ان پر آپ کو کمیشن دیا جائے گااسوقت پی ٹی وی میں 12 لاکھ روپے ماہانہ سے اوپر کوئی اینکر نہیں ہے میں نے نجی چینلز سے اینکر لا کر مالکان سے تلخیاں مول لیں پی ٹی وی کے ذمہ آئی سی سی کی ادائیگیاں ایک ارب روپے سے تجاوز کر گئی تھیں۔میچ کے دوران اچانک نشریات بند ہو گئیں، پتا چلا کہ آئی سی سی کی ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے ہے جب نجی شعبے سے اچھے لوگوں کو لایا جاتا ہے تو پی ٹی وی میں ایک مافیا پروپگنڈا کرتا ہے سیاسی بھرتیوں نے اداروں کا بیڑہ غرق کیا۔اب میرٹ پر بھرتیاں ہو رہی ہیں تو کچھ لوگوں کو اچھا نہیں لگ رہا پی ٹی وی میں تمام ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کا فیصلہ کیا ہے۔ملازمین اپنی ڈگریوں کی تصدیق کروانے کو تیار نہیں مالی بھرتی ہونے والے کو ایسو سی ایٹ پروڈیوسر لگایا گیا تھامیں نے پی ٹی وی میں لابیز کو توڑنا ہے پی ٹی وی کی تنخواہ آئی سی سی کی ادائیگی کے باعث تاخیر کا شکار ہوئی میں چاہتا تھا کہ عوام چیمپئینز ٹرافی دیکھنے سے محروم نہ ہوں کئی نجی میڈیا چینلز نے کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کیں کئی چینلز کے مالکان رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے کما رہے ہیں لیکن تنخواہیں نہیں دے رہے سحر کامران نے کہا کہ ہمارا نجی میڈیا سے کوئی تعلق نہیں آپ پی ٹی وی کا جواب دیں۔اس پر عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی وی میں ڈگریوں کی تصدیق 31 جنوری تک مکمل کر لیں گے جعلی ڈگری والے 200 ملازمین بھی نکالنے پڑے تو نکالوں گاپی ٹی وی میں ”نیور گو ہوم” کی پالیسی چل رہی تھی ملازمین یا افسران کو ریٹائر ہونے پر دوبارہ بھاری تنخواہوں پر بھرتی کیا جاتا تھا حال ہی میں ایسے 12 افراد کو فارغ کیا گیا ہے اجلاس میں آسیہ ناز تنولی کے پیمرا ترمیمی بل پر غور کیا گیا جس میں تجویز ہے کہ انٹرٹینمنٹ چینلز کے ڈراموں اور اشتہاروں کیلئے بھی ایک سینسر بورڈ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ڈرامے اور اشتہار بھی چلائے جا رہے ہیں جو فیملی کے ساتھ نہیں دیکھے جا سکتے۔اس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اس معاملہ پر ٹی وی چینلز کے ساتھ مشاورت ہونی چاہئییکچھ ٹی وی چینلز کی انتظامیہ سے ہم بات کر چکے ہیں کمیٹی نے پیمرا ترمیمی بل پر ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ذیلی کمیٹی انٹرٹینمنٹ چینلز کے نمائندوں کا موقف بھی سنے گی اجلاس میں ریڈیو پاکستان کی بحالی کے پلان بر ڈی جی ریڈیو سیعد احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ریڈیو پاکستان پہلے 61کروڑ سالانہ کماتا تھا اب ایک ارب کا ہدف رکھا ہے۔ریڈیو پاکستان کی غیر استعمال شدہ بلڈنگز کو کرائے پر دیا جائے گا۔ریڈیو پاکستان کی ملک بھر میں پراپرٹیز کو استعمال میں لائینگے ریڈیو پاکستان کے ٹرانسمیٹرز اپنی مدت پوری کر چکے ہیں،اس وقت ایک ٹرانسمیٹر کی قیمت 1.

5 ارب روپے ہے۔ہم نے ٹرانسمیٹرز کو اپنے وسائل سے ٹھیک کیا ہے۔ریڈیو پاکستان کی تمام بلڈنگز کو سولر پر منتقل کرینگے ریڈیو پاکستان کا روات میں 300 کلو واٹ کا سولر سسٹم نصب کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں ریڈیو پاکستان میں 300 گھوسٹ پینشنرز کا انکشاف کیا گیا ڈی جی ریڈیو نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کے 3800 پینشنرز میں سے تین سو گھوسٹ پینشنر تھے۔ہم گھوسٹ پینشنرز کی نشاندہی کر کے کیسز ایف آئی اے کو بھجوا رہے ہیں۔قائمہ کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کی کرایے پر دی گئی عمارتوں کی تفصیلات طلب کرلیں سحر کامران نے کہا کہ کئی عمارتیں برائے نام کرایہ پر دی گئی ہیں۔ڈی جی ریڈیو نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کی بیشتر عمارتیں سرکاری اداروں کے پاس ہیں سحر کامران نے کہا کہ ٹی وی چینلز کے ذمہ پیمرا کے واجبات کی ادائیگی کیوں نہیں ہو رہی۔وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ حال ہی میں براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن سے واجبات پر میٹنگ ہوئی ہے بہت جلد واجبات کا معاملہ حل ہو جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سحر کامران نے کہا کہ نے کہا کہ پی ٹی اطلاعات و نشریات ا ئی سی سی کی قائمہ کمیٹی پی ٹی وی کے اجلاس میں چینلز کے کمیٹی نے جائے گا رہے ہیں دیا گیا کیا گیا گیا ہے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا