جینٹری بیچ : فوٹو اسکرین گریپ

امریکی سرمایہ کاروں کے وفد کے سربراہ جینٹری بیچ کا کہنا ہے کہ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کے پاس اپنا گھر ہو، ایسی تعمیراتی ٹیکنالوجی یہاں لانا چاہتے ہیں جس سے ایک ماہ میں 30 منزلہ عمارت بن جاتی ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جینٹری بیچ نے کہا کہ میں یہاں مذاکرات کیلئے نہیں کاروبار کیلئے آیا ہوں، میرا حکومت کی معاشی سفارتکاری سے کوئی تعلق نہیں، ہم پاکستان میں معدنیات، توانائی اور ریئل اسٹیٹ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔

جینٹری بیچ نے کہا کہ گزشتہ 4 سال جو کچھ بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان سے کیا وہ مناسب نہیں تھا، رچرڈ گرینیل ایک زبردست امریکی ہیں انہوں نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ رچرڈ گرینل کو ڈیپ فیک ٹیکنالوجی سے گمراہ کیا گیا ہے، رچرڈ گرینیل نے جو بات کی وہ پاکستان کے بارے میں اپنی انڈراسٹینڈنگ کے مطابق کہی ہے۔

امریکی سرمایہ کار نے کہا کہ میں پاکستان کو امریکا کے ایک اتحادی کے طور پر دیکھتا ہوں، آئل اینڈ گیس سیکٹر پر بھی پاکستان میں اب تک کم توجہ دی گئی ہے، صدر ٹرمپ بھی ایک بزنس مین ہیں، امریکا اور پاکستان کی موجودہ قیادت کا مائنڈسیٹ ایک جیسا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: جینٹری بیچ چاہتے ہیں کی سرمایہ

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی