بھارت میں بے حس ڈاکٹر موبائل پر ویڈیوز دیکھتا رہا، 60 سالہ خاتون تڑپ تڑپ کر مرگئیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
بھارت(نیوز ڈیسک)بھارتی ریاست اترپردیش کے مین پوری ضلع میں انسانیت کی خدمت پر مامور ڈاکٹر کی سفاکیت اور بے حسی نے 60 سالہ خاتون انتقال کرگئیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق منی پور میں قائم ایک پرائیوٹ اسپتال میں ہارٹ اٹیک کا شکار خاتون کو لایا گیا تاہم ڈاکٹر نے علاج کے بجائے موبائل میں ویڈیوز دیکھنے کو ترجیح دی اور اپنے اسٹاف کو بھیج دیا۔
اہل خانہ کے مطابق ڈاکٹر سوشل میڈیا ریلیز دیکھنے میں مصروف رہی اور اصرار کے باوجود بھی سیٹ سے نہیں اٹھی، اس غفلت کے نتیجے میں 60 سالہ پرویش کماری دنیا سے چل بسیں۔اہل خانہ نے بتایا کہ متوفیہ کے سینے میں شدید درد تھا، جس پر بیٹا گرو شرن سنگھ انہیں اسپتال لے کر پہنچا تھا تاہم ڈاکٹر آدرش نے ڈیوٹی پر ہونے کے باوجود سفاکیت اور بے رحمی کا مظاہرہ کیا۔خاتون کی موت پر لواحقین مشتعل ہوئے اور انہوں نے شدید احتجاج کیا جبکہ انہوں نے انتظامیہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی نکلوائیں جس میں ڈاکٹر کو موبائل میں ویڈیوز میں مصروف دیکھا جاسکتا ہے۔
خاتون نے بیٹے نے ماں کے انتقال پر مشتعل ہوکر ڈاکٹر کو تھپڑ مارنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈاکٹر بالکل آخر میں اٹھا اور اُس نے ماں کو دیکھنے کے بجائے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا‘۔
بی پی ایل میں حیدر علی کی دھواں دار بیٹنگ، لگاتار 4 چھکے مار کر ٹیم کو میچ جتوا دیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔