فیشن صرف لباس نہیں، طاقت کا ذریعہ ہے”
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
بالی وڈ کی معروف اداکارہ اور فیشن آئیکون ملائکہ اروڑا نے حال ہی میں ایک شاندار فوٹو شوٹ کروایا، جس میں انہوں نے فیشن کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ان کا ماننا ہے کہ فیشن صرف رجحانات کی پیروی کا نام نہیں، بلکہ یہ خود کو اظہار دینے اور بااعتماد محسوس کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
ملائکہ اروڑا کے مطابق، فیشن کا مطلب ہے خود کو محدود نہ رکھنا بلکہ نت نئے تجربے کرنا۔ انہوں نے کہا، "فیشن اپنی حدوں کو چیلنج کرنے اور اپنی شخصیت کے مطابق انتخاب کرنے کا نام ہے۔ جو چیز آپ کے لیے صحیح لگے، وہی پہنیں، لیکن اپنی اصل پہچان کو نہ کھوئیں۔”
اداکارہ نے مزید کہا کہ کپڑے اور انداز صرف ظاہری نہیں بلکہ اندرونی طاقت بھی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "جب میں ایسا لباس پہنتی ہوں جو میری شخصیت کی عکاسی کرتا ہے، تو وہ نہ صرف مجھے اعتماد دیتا ہے بلکہ میں خود کو زیادہ پُرسکون محسوس کرتی ہوں۔”
ملائکہ کا ماننا ہے کہ رجحانات آتے جاتے ہیں، لیکن حقیقی انداز ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ انہوں نے کہا، "مجھے ہمیشہ وہی پہننا پسند ہے جو مجھے خوش اور پُرسکون رکھے، کیونکہ فیشن کا اصل مقصد یہی ہے۔”
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔