واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) واشنگٹن میں مسافر طیارہ فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرا کر دریا میں گرگیا، طیارے میں سوار64 افراد اور فوجی کاپٹر میں موجود 3فوجی ہلاک ہوگئے، تمام 67 لاشیں دریا سے نکال لی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق واشنگٹن ائرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے جس کے نتیجے میں 67 افراد ہلاک ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ائرلائن کی پرواز کینساس کے شہر وکیٹا سے واشنگٹن پہنچی تھی جہاں طیارے کو دریائے پوٹومیک کے اورپر رن وے کے قریب حادثہ پیش آیا۔ فلائٹ ریڈار کے مطابق طیارے کو حادثہ مقامی وقت کے مطا ق شام 8 بجکر 48 منٹ پر پیش آیا، اس وقت طیارے کی رفتار 166 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی۔ رپورٹس کے مطابق بمبارڈیئر CRJ700 طیارے میں 78 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرانے کے بعد مسافر طیارہ پوٹومیک دریا میں گرگیا، حادثے کے بعد دریائے پوٹومیک میں غوطہ خوروں کو تعینات کیا گیا اور فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تاہم کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچ سکا اور دریا سے تمام67 افراد کی لاشوں کو نکال لیا گیا۔ امریکی حکام کا بتانا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں 64 مسافر سوار تھے۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق مسافر طیارے سے ٹکرانے والے فوجی ہیلی کاپٹر میں 3 اہلکار سوار تھے۔ امریکی میڈیا کے مطابق مسافر طیارے سے ٹکرانے والا بلیک ہاک فوجی ہیلی کاپٹرتربیتی پرواز پر تھا۔ حادثے کے بعد ریگن نیشنل ائرپورٹ پرتمام پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فوجی ہیلی کاپٹر مسافر طیارہ کے مطابق

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی