پی ایف یو جے کا متنازع پیکا ترمیمی قانون کیخلاف آج یوم سیاہ منانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) نے متنازع پیکا ترمیمی قانون کے خلاف آج یوم سیاہ منانے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق پی ایف یو جے نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) قانون کے خلاف آج 31 جنوری کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔
پی ایف یو جے کے اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں پریس کلبوں پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے، صحافی برادری احتجاجی ریلیاں نکالے گی، صحافی سرکاری و غیر سرکاری تقریبات کی کوریج سیاہ پٹیاں باندھ کر کریں گے۔
پی ایف یوجے کے صدر افضل بٹ اور جنرل سیکرٹری ارشد انصاری نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیثی نے صدر مملکت سے ملاقات کی درخواست کی تھی، صدر کا ملاقات کیے بغیر ہی بل پر دستخط کرنا افسوسناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ وکلا اور سول سوسائٹی کو متحرک کرنے کے لیے ملک گیرمہم شروع کی جائے گی، کالے قانون کی منسوخی کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے کی کال بھی دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ایف یو جے
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔