کراچی آئی شادی کی خواہشمند خاتون کا بیٹا منظر عام پر آگیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
ویب ڈیسک: کراچی کے نوجوان سے شادی کی دعوے دار امریکی خاتون سے متعلق نئے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے،خاتون اونیجا اینڈریو رابنسن کا امریکا میں بیٹا منظرِ عام پر آ گیا، بیٹے جیرامیا اینڈریو رابنسن نے ویڈیو بیان میں اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
بیٹے نے والدہ اونیجا اینڈریو رابنسن کو ذہنی مریضہ قرار دیا ہے،اس حوالے سے بیٹے کا ویڈیو بیان، برتھ سرٹیفکیٹ، سوشل سکیورٹی کارڈ حاصل کر لیا گیا ہے،جیرامیا اینڈریو رابنسن کے مطابق میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ والدہ پاکستان میں ہیں، میری والدہ ایک شخص اور اس کے اہلِ خانہ سے ملنے پاکستان گئی تھیں،امریکی خاتون کے بیٹے نے کہا ہے کہ والدہ نے 2 ہفتے کے بعد واپس آنا تھا لیکن وہ نہیں آئیں، میں نے والدہ کو واپس آنے کے لیے منانے کی بھی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
لاہور سمیت پنجاب میں قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز 3فروری سے ہوگا
بیٹے کا کہنا ہے کہ میرے بھائی اور میں نے ان کی واپسی کا ٹکٹ بھی کروایا تھا، والدہ ذہنی مریضہ ہیں، ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہے،واضح رہے کہ مذکورہ خاتون 19 سالہ نوجوان سے شادی کی خواہش لیے گزشتہ برس 11 اکتوبر سے کراچی میں موجود ہیں اور امریکا واپس جانے سے انکار کر رہی ہیں،امریکی خاتون کا کہنا ہے کہ میری شادی آن لائن ہو چکی ہے، پیسوں کے لیے شادی نہیں کی، میرے پاس پیسہ ہے۔
وکالت کے لائسنس حاصل کرنے کے خواہشمند طلبا کیلئے بار ووکیشنل کورس لازمی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اینڈریو رابنسن
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی