ایس آئی ایف سی کے تعاون سے پٹرولیم کے شعبے میں ترقی کے لیے اہم پیشرفت WhatsAppFacebookTwitter 0 1 February, 2025 سب نیوز

ایس آئی ایف سی کی جانب سے پٹرولیم کمپنیوں کے حصص کے فروخت کے تناسب میں اضافے اور اس شعبے کی ترقی کے لیے موثر اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ایس آئی ایف سی کی سفارشات کے مطابق نئے گیس کے ذخائر کے فروخت کے قوانین میں نرمی کردی گئی ہے۔

ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) کمپنیوں کو گیس ذخائر کی مد میں دیے گئے حصص کو 10 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دیا گیا ہے جب کہ کمپنیوں کو گیس کی بروقت ترسیل کے لیے سوئی گیس نیٹ ورک کا استعمال یا اپنی پائپ لائن بچھانے کی اجازت دی گئی۔

اس فیصلے کا بنیادی مقصد گیس کے ذخائر کا بہترین استعمال، نجی شعبے کی ترقی کے لیے شفافیت اور یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔

نجی کمپنیوں کو گیس کی فروخت سے مارکیٹ کی مجموعی طلب کو پورا کیے جانے کے ساتھ ساتھ گردشی قرضوں میں کمی متوقع ہے

ایس آئی ایف سی کی معاونت سے سوئی گیس کمپنیوں کی مالی مشکلات حل کرنے کے لیے حکومت کا اہم اقدام قابل ستا ئش قرار دیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایس آئی ایف سی ترقی کے لیے

پڑھیں:

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ عام استعمال کی اشیاء بھی اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہونے لگی ہے۔

ایکسپریس نیوز نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے پٹرول پمپوں پر لوگوں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ اپ نے لاسٹ ٹائم گاڑی کی ٹینکی یا موٹر سائیکل کی ٹینکی کب فل کرائی تھی تو  100  میں سے تقریباً 90  لوگوں نے کہا کہ ان کو تو یاد ہی نہیں ہے کہ  ٹینکی بھی کبھی فل کرائی  تھی۔

گاڑی میں  سوار اکبر امجد کاشف عقیل نے بتایا کہ  دو ہزار کا تو کبھی  تین ہزار کا تو بہت حد ہوئی تو پانچ ہزار کا پٹرول ڈلوایا تھا  جبکہ موٹر سائیکل سوار   تو ایک لیٹر بھی پورا نہیں ڈلواتے، کوئی 200 روپے کا تو کوئی 300 روپے کا پٹرول بھرواتا ہے۔

کچھ  موٹرسائیکل سواروں نے 2000 یا تین ہزار کا اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوایا  جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لمبا سانس لے کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب قیمتیں اس قابل ہو جائیں گی تو شاید ہم اپنی  زندگیوں میں مو ٹر سائیکل کی ٹینکی بھی فل کرا سکیں۔

یہ تو مجبوری میں اتنی رقم خرچ کی ہے اب تو جتنی ضرورت ہوتی ہے ڈلوا کر گزارہ کر رہے ہیں ۔

کار سوار امتیاز کے مطابق اس نے چار مہینے پہلے گاڑی کی ٹینکی فل کرائی تھی اور اج وہ کبھی 2ہزار  کا تو کبھی  ڈھائی ہزار کا پٹرول ضرورت کے تحت ڈلوا رہے ہیں کیونکہ افس جانا ہے یا بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنا ہے کیونکہ بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ پہنچ سے باہر ہو گیا۔

اب بچوں کو لانے لے جانے کے لیے ہی صرف گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے یا کوئی ایمرجنسی ہو تو تب گاڑی نکالی جاتی ہے جبکہ پاکستان پیٹرولیم اونر ایسوسییشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کی وجہ سے پٹرول کی کھپت میں 35 سے 40 فیصد تک کمی ائی ہے، اب تو پٹرول پمپ مالکان کے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے، تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔

بجلی کے بل پہلے جو پٹرول پمپ کے دو ڈھائی لاکھ اتے تھے اب وہ چار پانچ لاکھ آنے لگ گئے ہیں اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔

ایک طرف عوام پریشان ہے تو دوسری طرف پٹرول فروخت کرنے والے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کے تو  پٹرول پمپس ہیں ان کی کس چیز کی فکر ہے، جتنی مرضی گاڑیاں رکھے چلائے اس نے کون سے اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا ہے اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ  اکثر گھروں میں  تین تین چار چار گاڑیاں تو نظر اتی ہیں مگر چلتی صرف ایک عادی ہی ہے۔

اگر حالات یہی رہے تو عنقریب مزید سینکڑوں لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں رش زیادہ ہو گیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اگر چلتی بھی ہے تو کئی میل دور جا کر پک اینڈ ڈراپ ملتا ہے اس لیے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ یا گاڑی پہ سفر کریں۔

بہرحال پٹرول مہنگا ہونے سے اب ٹینکی فل کرانا صرف ایک خواہش  ہی رہ گی ہے اور جو حالات ہو چکیں ہیں ان میں ٹینکی فل کرانا ناممکن۔ ہو چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف