پی ٹی آئی نے سیالکوٹ میںبھی جلسے کی اجازت مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
سیالکوٹ( آن لائن )پی ٹی آئی نے لاہور کے بعد سیالکوٹ میں بھی جلسے کی اجازت مانگ لی۔ تحریک انصاف کی جانب سے 8 فروری کو جلسہ عام کرنے کی اجازت کے
حصول کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دے دی گئی ہے۔یہ درخواست پی ٹی آئی کی مرکزی رہنما ریحانہ امتیاز ڈار کی جانب سے دی گئی ہے، وہ سٹی صدر میاں اعجاز اور اپنے وکلا کی ٹیم کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کو درخواست دینے کے لیے پہنچیں۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ خدا کا خوف کریں، حق اور سچ کا ساتھ دیں، مجھے میڈیا ٹی وی پر بلائے، میں خواجہ آصف کی ہر بات کا جواب دوں گی۔ان کاکہنا تھا کہ ہمیں جلسہ کرنے کی اجازت ملنی چاہیے تاکہ عوام کو بتا سکیں کہ ہم حق کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں، اگر جلسے کی اجازت نہ ملی تو ہائیکورٹ اورعدالت عظمیٰ تک بھی جاؤں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی اجازت
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔