فضائی آلودگی کے خاتمے تک سکھ کاسانس نہیں لیں گے،مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
لاہور(صباح نیوز)پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی کے خاتمے تک سکھ کاسانس نہیں لیں گے، آخر یہ ہماری نسلوں کی بقا کا مسئلہ ہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں صاف اور سرسبز پنجاب کے وژن کے تحت ماحولیاتی تحفظ کے بڑے اقدامات کرتے ہوئے پنجاب میں اربوں
روپے کی مالیت کے 30 جدید ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سٹیشنز نصب کردیئے گئے،اسی سال 31 مارچ تک 30 مزید مانیٹرز لگائے جا ئیں گے،اس سے قبل ان مانیٹرز کی تعداد صرف 3 تھی، پنجاب کے ہر کونے کے فضای تحفظ کے لئے 100 اے کیوای مانیٹرز کے ہدف کی تکمیل پر کام جاری ہے، فضائی آلودگی پر سخت نگرانی کے لئے لاہور میں 5 موبائل اور 8 فکسڈ مانیٹرنگ سٹیشنزقام کردیئے گئے ، سٹیشنز خودکارنظام کے تحت سیٹلا ئٹ سے منسلک ہر گھنٹے کا فضائی ڈیٹا فراہم کریں گے۔بڑے شہروں میں فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، گوجرانوالہ سمیت کئی شہروں میں ایئر کوالٹی سٹیشنز قائم کئے گئے، ماحولیاتی ڈیٹا اب لائیو دستیابی کے سلسلے میں حکومت کو فضائی آلودگی سے متعلق فوری اور درست معلومات کی فراہمی ممکن بنادے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔