امریکی ٹیرف پالیسی کے خلاف کینیڈا اور میکسیکو نے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ چین نے بھی امریکی ٹیرف پالیسی کے خلاف باضابطہ بیان جاری کردیا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے امریکی ٹیرف میں اضافے پر تبادلہ خیال کیا اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور مشترکہ مفادات پر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’ٹیرف ٹرمپ کارڈ‘، کینیڈا اور میکسیکو جوابی چال کے لیے تیار

وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے ردعمل میں کینیڈین شہریوں سے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ کینیڈا میں تیار مصنوعات کا انتخاب کیا جائے، لیبل چیک کریں اور اپنی مصنوعات خریدیں۔

دوسری جانب، امریکا میں چینی سفارتخانے نے امریکی ٹیرف پالیسی پر ردعمل دیتے ہوئے باضابطہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تجارت اور محصولات کی جنگ میں کسی فتح نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ریاست بن جائیں، ٹیرف ختم کردیں گے، ٹرمپ کی کینیڈا کو پیشکش

بیان میں کہا گیا ہے کہ چین اپنے مفادات کا جواب دے گا، ٹیرف پالیسی سے امریکا کے اندرونی مسائل حل نہیں ہوسکتے، امریکی اقدامات سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچے گا، امریکا کا اقدام دنیا کے لیے خسارے کا سودا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ محصولات میں اضافے سے کچھ تکلیف ہوگی لیکن نتائج شاندار ہوں گے، یہ امریکا کا سنہری دور ہوگا، ہم امریکا کو پھر سے عظیم بنائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کا جوابی وار، امریکا پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اب عقلمندی کے ساتھ چلایا جارہا ہے جس کے نتائج شاندار ہوں گے، کینیڈا، میکسیکو اور چین امریکی برتری ختم کرنے کی کوشش کررہے تھے، امریکا دوسرے ممالک کو رعایت دے کر کھربوں ڈالر ضائع نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیرف عائد کرنے سے ان ممالک کو جو درد پہنچا بہت اہمیت کا حامل ہے، ہمیں کینیڈا کی کسی چیز کی ضرورت نہیں، اب تمام اشیا امریکا میں ہی تیار کی جائیں گی، کینیڈا اگر ہماری 51ویں ریاست بن جائے تو کوئی ٹیرف نہیں اور عوام کو بہترین فوجی تحفظ حاصل ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اتحاد امریکا بیان ٹیرف پالیسی جسٹن ٹروڈو چین چینی سفارتخانہ ردعمل صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا مصنوعات میکسیکو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اتحاد امریکا بیان ٹیرف پالیسی جسٹن ٹروڈو چین چینی سفارتخانہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا مصنوعات میکسیکو ڈونلڈ ٹرمپ

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان