سہ فریقی سیریز کے دوران پاک فوج اور رینجرز جوانوں کی تعیناتی کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
وزارت داخلہ نے سہ فریقی سیریز کے دوران پاک فوج اور رینجرز کے جوانوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
سہ ملکی کرکٹ سیریز کیلئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے وفاقی وزارت داخلہ نے 5 سے 10 فروری کیلئے آرمی اور رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دیدی۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کرکٹ میچز کے دوران پاکستان آرمی اور پاکستان رینجرز پنجاب کی 1، 1 کمپنی تعینات ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے: پی سی بی نے پاکستان میں ہونے والی سہ فریقی ون ڈے سیریز کا شیڈول جاری کردیا
واضح رہے کہ پنجاب پولیس کی درخواست پر محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاقی حکومت کو مراسلہ لکھا تھا جس کے بعد پاک فوج اور رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کے درمیان ہونے والی یہ سیریز 8 سے 14 فروری تک کھیلی جائے گی۔ اس ایونٹ کے پہلے 2 میچز لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منعقد ہوں گے جبکہ باقی 2 میچز کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں کھیلا جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Pak Army punjab rangers پاک آرمئ پنجاب رینجرز سہ فریقی سیریز کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک ا رمئ کرکٹ کی تعیناتی کی منظوری اور رینجرز
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔