بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی ڈاکٹرز کاسینیٹ صحت کمیٹی کو خط ،مینڈیٹری سٹیشنز ختم کرنے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) بیرون ملک سے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے والے پاکستانی ڈاکٹروں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو خط لکھ کر نیشنل رجسٹریشن امتحان (NRE) سٹیپ II میں شرکت کے مواقع بحال کرنے اور مینڈیٹری سٹیشنز کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ دسمبر 2023 میں ہونے والے این آر ای سٹیپ II امتحان میں کئی امیدواروں نے 60 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے، لیکن انہیں ناکام قرار دے کر جولائی 2024 کے امتحان میں شرکت سے روک دیا گیا، جو کہ 12 جون 2024 کو جاری کردہ نوٹیفیکیشن کی بنیاد پر کیا گیا۔درخواست گزاروں کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ قواعد و ضوابط کی بھی خلاف ورزی ہے، کیونکہ دسمبر 2023 کے امتحانات پی ایم ڈی سی کے 19 اکتوبر 2023 کے نوٹیفیکیشن کے مطابق منعقد کیے گئے تھے، جس میں این آر ای سٹیپ II کے امتحانات کی تعداد پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی۔خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ستمبر 2023 میں پی ایم ڈی سی بورڈ کونسل کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ این آر ای سٹیپ II کے امتحانات کے مواقع کی کوئی حد نہیں ہوگی، تاکہ امیدواروں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ تاہم جون 2024 میں اچانک جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے تحت امتحانات کی تعداد کو محدود کر دیا گیا، جو ڈاکٹروں کے مطابق سراسر زیادتی ہے۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ایم ڈی سی کی تاریخ میں پہلی بار این آر ای سٹیپ II کے امتحانات ( مواقع) کی تعداد کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا، حالانکہ اس سے قبل غیر ملکی فارغ التحصیل ڈاکٹروں اور پی ایم ڈی سی بورڈ کے اتفاق رائے سے یہ شرط ختم کر دی گئی تھی۔درخواست گزار ڈاکٹروں نے سینیٹ کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ این آر ای سٹیپ II کے امتحانات کے مواقع لامحدود ہونے چاہئیں یا کم از کم انہیں بحال کر کے 5 سال کیا جائے، تاکہ بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے محب وطن ڈاکٹروں کا مستقبل محفوظ کیا جا سکے۔


ڈاکٹروں نے مینڈیٹری سٹیشنز کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس کے تحت کسی ایک سٹیشن میں ناکامی کی صورت میں پورے امتحان میں فیل قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار طلباء کے ساتھ زیادتی اور ان کی تمام تر محنت پر پانی پھرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر منصفانہ فیصلے پر نظرثانی کریں اور ان ڈاکٹروں کو آئندہ امتحانات میں شرکت کا موقع فراہم کریں، ورنہ ملک میں طبی شعبے کو بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بیرون ملک سے ختم کرنے کا کرنے والے

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم