Express News:
2026-07-24@15:11:20 GMT

دنیا میں ڈاک ٹکٹ کا آغاز اور پاکستان میں اس کی تاریخ

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT

لاہور:

خطوط پر ٹکٹ لگانے کا آغاز یکم جولائی 1840 کو ہوا، جب دنیا کی پہلی ڈاک ٹکٹ "پینی بلیک" برطانیہ میں جاری کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدا میں خط پر لگائی جانے والی ٹکٹ کی رقم بھیجنے والا نہیں بلکہ وصول کرنے والا ادا کرتا تھا، تاہم بعد میں اس قانون کو تبدیل کر دیا گیا۔  

برصغیر میں ڈاک ٹکٹ کا آغاز 1852 میں ہوا جب "سندھ ڈاک" کے نام سے پہلی ڈاک ٹکٹ جاری کی گئی۔ پاکستان نے اپنا پہلا ڈاک ٹکٹ 9 جولائی 1948 کو ملک کی سالگرہ کے موقع پر جاری کیا۔ تب سے لے کر آج تک پاکستان پوسٹ ماسٹر جنرل کی جانب سے لاکھوں ڈاک ٹکٹ جاری کیے جا چکے ہیں جن کی مالیت ایک روپے سے لے کر 50 روپے یا اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ٹکٹیں رجسٹری، مخصوص پارسل اور دیگر اہم ڈاک کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

پاکستان میں جاری کی جانے والی ٹکٹوں میں سیاسی، سماجی، آرٹسٹ اور کھلاڑیوں کی تصاویر شامل ہوتی ہیں۔ اب تک پاکستان 1500 سے زائد اقسام کی ڈاک ٹکٹیں جاری کر چکا ہے، جو پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ پریس میں چھپتی ہیں اور بعد میں پاکستان بھر کے 1500 سے زائد پوسٹ آفسز میں فراہم کی جاتی ہیں۔  

چیف پوسٹ ماسٹر جنرل پنجاب، ارم طارق کے مطابق پاکستان میں ٹکٹیں برادر اسلامی ممالک اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات، تربیلا و منگلا ڈیم کی سالگرہ، اسکواش، کرکٹ، ہاکی اور نیزہ بازی جیسے کھیلوں کے ساتھ ساتھ تاریخی مقامات کی مناسبت سے بھی جاری کی جاتی ہیں۔ آج بھی ہزاروں افراد روزانہ کی بنیاد پر اپنے خطوط، پارسل اور دیگر اہم دستاویزات پر ٹکٹ لگا کر اندرون و بیرون ملک بھیجتے ہیں، جبکہ سرکاری، نیم سرکاری اور عدالتی کارروائیوں میں بھی ان کا استعمال ہوتا ہے۔  

دنیا بھر میں ڈاک ٹکٹوں کا رواج آج بھی برقرار ہے اور ہر ملک اپنی اہم شخصیات، تاریخی مقامات اور ثقافتی ورثے کی مناسبت سے مختلف ڈاک ٹکٹیں جاری کرتا رہتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جاری کی

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا