لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کیخلاف پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کی سماعت 18 فروری تک ملتوی کر دی۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور کی اینٹی کرپشن عدالت کے جج سردار اقبال ڈوگر نے پی ٹی آئی رہنما چودھری پرویز الہٰی کیخلاف پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت شریک ملزمان محمد خان بھٹی، مختار، سمیع اللہ، زوہیب، عاطف، محمد امین سمیت دیگر عدالت پیش ہوئے جبکہ پرویز الہٰی کی جانب سے ان کے وکیل نے میڈیکل عدالت میں پیش کیا۔

ٹرمپ کا چار بڑے میڈیا اداروں کو پینٹاگون میں موجود دفاتر ہٹانے کا حکم 

اینٹی کرپشن کورٹ کے جج نے ریمارکس دیئے کہ یہ میڈیکل ایسے ہی ہے، سرکاری ہسپتال کا میڈیکل پیش کریں، آئندہ اگر حاضری معافی ہوئی تو سرکاری ہسپتال کا میڈیکل پیش کریں۔جج سردار اقبال ڈوگر نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کو چلنے دیں، اتنے لوگ آتے ہیں اور متاثر ہو رہے ہیں۔

بعدازاں لاہور کی اینٹی کرپشن عدالت نے چودھری پرویز الہٰی کیخلاف پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کی سماعت 18 فروری تک ملتوی کر دی۔ 
 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کی سماعت پرویز الہ ی کی

پڑھیں:

قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی، 
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔

عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔

آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ