ڈسٹرکٹ کی سطح پر چیمبر زکے لیے زمین فراہم کرنے میں پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
کراچی (کامرس رپورٹر)صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کامرس، انڈسٹریز اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، حکومت خیبرپختونخوا، کو شہر اور ڈسٹرکٹ کی سطح پرچیمبر زآف کامرس اینڈ انڈسٹری (CCIs) کے دفاتر اور عمارتیں قائم کرنے کے لیے صوبے میں ضلعی سطح پر مناسب پلاٹ فراہم کرنے کی بابت ایف پی سی سی آئی کی سفارش پر حکومت کے اقدام اور پیش رفت کو سراہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام خیبر پختونخوا کی اقتصادی، صنعتی، تجارتی، کاروباری اور کمرشل سر گرمیوں میں ترقی اور ان کی تیزی میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ کامرس، انڈسٹریز اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ،حکومت خیبر پختونخوا، نے اس سلسلے میں خیبر پختونخوا کے 31 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ ہر ضلع میں اس مقصد کے لیے 2 کنال کے پلاٹ کی نشاندہی کریں۔ صدرایف پی سی سی آئی نے کہا کہ فیڈریشن اعلیٰ ترین ٹریڈ باڈی ہونے کے ناطے چیمبرز آف کامرس کے دفاتر کے لیے مناسب عمارتوں کی کمی پر کے پی حکومت کی توجہ مبذول کرانے میں کامیاب ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی سی سی ا ئی کے لیے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔