راکھی ساونت نے مفتی قوی کی شادی کی پیشکش قبول کرلی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
٭میں تو کسی مولانا سے شادی کیلئے مر رہی ہوں، قوی صاحب آپ کے نام میں ہی قوی آتا ہے میرے لئے کویتا (شاعری) لکھئے،اداکارہ
مفتی قوی نے ایک حالیہ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کے دوران بھارتی اداکارہ راکھی ساونت کے اسلام قبول کرنے کی تعریف کی اور انہیں شادی کی پیشکش کی تھی جس پر اب راکھی کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔
پوڈ کاسٹ میں مفتی قوی سے راکھی ساونت سے ممکنہ شادی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی والدہ اجازت دیں گی تو وہ اس رشتے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک والدہ کی اجازت لینا ضروری ہے۔
مفتی قوی نے وضاحت کی کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک سمیت دیگر علمائے کرام کی تحقیق کے مطابق ہندو مذہب کی مقدس کتاب الہامی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے راکھی ساونت اہلِ کتاب کے زمرے میں آتی ہیں اور ان سے نکاح جائز ہے۔
اپنی پہلی شادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کا نکاح ایک نامور خاندان کی خاتون سے ہوا تھا، اور یہ خاندان اتنا ہی معتبر تھا جیسے مولانا ابوالکلام آزاد، قائداعظم محمد علی جناح، گاندھی جی اور جواہر لعل نہرو کے خاندان۔ تاہم ان کی اہلیہ کے انتقال کے باعث یہ رشتہ ختم ہو گیا، لیکن وہ آج بھی اپنی مرحومہ اہلیہ کو عزت و احترام سے یاد کرتے ہیں۔
دوسری جانب اب راکھی ساونت نے بھی مفتی قوی کی اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے اس پر اپنا بیان دے دیا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں راکھی ساونت کا کہنا تھا کہ میں تو کسی مولانا سے شادی کیلئے مر رہی ہوں، قوی صاحب آپ کے نام میں ہی قوی آتا ہے میرے لئے کویتا (شاعری) لکھئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: راکھی ساونت مفتی قوی شادی کی
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔