’’اس وقت ون ٹوون والامعاملہ، بیچ میں کوئی دوسرا فریق نہیں‘‘
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
تجزیہ کار فیصل حسین کا کہنا ہے کہ بہت سادہ لفظوں میں بات کریں تو یہ اتحاد حکومت کیخلاف ہے ہی نہیں، حکومت کے خلاف تو تب ہوتا جب حکومت ہوتی، یہ الائنس بنیادی طور پر اسٹیبلشمنٹ کیخلاف ہے.
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اب اگر وہ اس محاذ پر آ کے، اس مرحلے میں بھی آ کر اگر حکومت کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلائیں گے تو پھر آپ نے اس الائنس سے کیا نتیجہ حاصل کرنا ہے.
تجزیہ کار نوید حسین نے کہا کہ میرا نہیں خیال کے انڈیا کشمیر پر بات چیت کرے گا کیونکہ انڈیا اپنے آپ کو اس وقت مختلف لیگ میں سمجھتا ہے، انڈیا خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت، دنیا کی پانچویں بڑی معیشت اور دنیا کی چوتھی بڑی فوجی طاقت کہتا ہے.
تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ پاکستان کی کشمیر پر ایک پالیسی ہے سوائے عمران خان کی پالیسی کے، آج انھوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو وہیں سے شروع کریں گے جہاں چھوڑ کر گئے تھے، بھائی مقبوضہ کشمیر تو آپ حوالے کر گئے تھے، اب کیا آزاد کشمیر کی طرف آنا چاہتے ہیں؟
تجزیہ کار شکیل انجم نے کہا کہ جہاں تک کشمیر کا سوال ہے تو کشمیر کا تو سودا ہو گیا 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35اے کی تنسیخ سے مقبوضہ کشمیر کی جو آئینی حیثیت تھی وہ تبدیل ہو گئی اور وہاں انڈیا کا قبضہ ہوگیا، جہاں تک آج وزیراعظم شہباز شریف نے جو بات کی ہے تو میرا خیال ہے کہ بھارت کیوں مذاکرات کی طرف آئیگا.
تجزیہ کار محمد الیاس نے کہا کہ اپوزیشن کا جو گرینڈ الائنس بننے جا رہا ہے، اس کی حقیقت دیکھنی چاہیے کہ کیا انھوں نے بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات کے ایجنڈے بارے میں منظوری لی ہے؟ جب تک یہاں سے اوپر سے اپروول نہیں ہوگی ان کی جا کر یہ سارے جو اپوزیشن جماعتوں کے اتحادی جا کے جو بنے ہیں ابھی یہ اپوزیشن کی گرینڈ الائنس جاکر ان سے مل کر آئے ان سے بات چیت کرے تاکہ واضح ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔