ڈمپر و ٹینکرز سے شہریوں کی اموات،ذمے دار سندھ حکومت و پولیس ہے،منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان امام بارگا در بارحسینی ملیر میں گزشتہ روز ملینیم مال کے قریب تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے جاں بحق شوہر اور بیوی کی نماز جنازہ میں شریک ہیں، دوسری جانب کھو کر اپار ماڈل ٹاؤن میں بس حادثے میں جاں بحق خاتون کے اہل خانہ سے ملاقات و تعزیت کر رہے ہیں
کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان نے گزشتہ روز راشد منہاس روڈ پر ملینئیم مال کے قریب تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے کامران رضوی اور ان کی اہلیہ کی امام بارگاہ دربار حسینی برف خانہ ملیر میں ادا کی جانے والی نماز جنازہ میں شرکت کی اور ان کے اہل ِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ۔ان کے ہمراہ ٹائون چیئر مین ماڈل
کالونی ظفر خان ،وائس ٹائون چیئر مین فیصل باسط ، مختلف یوسیز چیئر مینز و کونسلرز اور جماعت اسلامی کے کارکنان بھی موجود تھے ۔ منعم ظفر خان نے نماز جنازہ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے شوہر اور بیوی کے جاں بحق ہونے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ شہر میں ہیوی ٹریفک اور تیز رفتار ڈمپر و ٹینکرز کی ٹکر سے شہریوں کی اموات کی ذمے دارسندھ حکومت اور پولیس ہے ،قابض میئرمرتضیٰ وہاب ایڈیشنل آئی جی پولیس کوخط لکھ کر اپنی ذمے داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے ،مرتضیٰ وہاب سندھ حکومت کے ترجمان ہیں اور پولیس سندھ حکومت کے ماتحت ہے ، سندھ حکومت و محکمہ پولیس ڈمپرز اور ہیوی ٹریفک کو شہر میں نقل و حرکت کے اوقات کی پابندی کرانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔عدالتی احکامات کے مطابق ڈمپرز کے شہر میںصبح 7بجے سے رات 11 بجے تک نقل و حرکت پر پابندی کے باوجود شام 5بجے یہ اندوہناک حادثہ پیش آیا۔ حکومت،انتظامیہ اور پولیس کہاں ہیں؟کراچی کے شہریوں کو تیز رفتار ڈمپروں اور ٹینکروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے دوسری جانب ٹریفک قوانین کی پابندی یقینی بنانے کے لیے بھی عملاً شہر میں کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ، پولیس شہریوں بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کو جگہ جگہ روک کر مال بنانے میں مصروف رہتی ہے ۔شہر میں گزشتہ 35 دن میں ڈمپر و ٹینکرز کی ٹکر سمیت 85 سے زاید ایسے واقعات اور حادثات ہوچکے ہیں، جن میں کئی لوگ اپنی جان سے چلے گئے ہیں ،یہ ایک المیہ اور اہل کراچی کے ساتھ بڑاظلم ہے،لوگ کب تک اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ ہم ملینئیم مال پر ہونے والے حالیہ حادثے سمیت دیگر متاثرہ خاندانو ں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کے درجات بلند ،لواحقین و پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔علاوہ ازیں منعم ظفر خان کھوکھراپار ماڈل ٹاؤن میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والی بسمہ خاتون کے گھربھی گئے اور ان کے شوہر محمد عمران اور بھائی محمد کامران سے ملاقات وتعزیت کی ۔ اس موقع پر نائب امیر ضلع ائر پورٹ وسیم مرزا ،ٹائون چیئر مین ماڈل کالونی ظفر خان ،وائس ٹائون چیئر مین فیصل باسط ، مختلف یوسیز چیئر مینز و کونسلرز اور جماعت اسلامی کے کارکنان و دیگر بھی موجود تھے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تیز رفتار ڈمپر ٹائون چیئر مین سندھ حکومت کی ٹکر سے
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔