ڈاکوراج کیخلاف انڈس ہائے وے پر دھرنے کی تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
کراچی/شکارپور(اسٹاف رپورٹ)جماعت اسلامی سندھ کی سکھر اے پی سی میں قائم بحالی امن ایکشن کمیٹی کے تحت 16 فروری کو امن و امان کی مخدوش صورتحال اور ڈاکوراج کے خلاف کندن چوک انڈس ہائی وے دھرنے کی تیاریوں کے سلسلے میں جماعت اسلامی کے ناظمین کا ایک اجلاس ضلعی امیر عبد السمیع بھٹی کی صدارت میں منعقد ہوا جبکہ مہمان خصوصی صوبائی نائب امیر پروفیسر نظام الدین میمن تھے۔ پروفیسر نظام الدین میمن نے کہاکہ سندھ حکومت شہریوں کی جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہوچکی ہے جبکہ پولیس عوام کی بجائے بنگلوں کی چوکیدار بنی ہوئی ہے۔بدامنی کے خلاف دھرنا عوام کے دلوں کی آواز ہے جو امن کی بحالی کی طرف اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔