UrduPoint:
2026-07-24@02:31:04 GMT

نئی دہلی کے ریاستی انتخابات، مودی کی جماعت آگے

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT

نئی دہلی کے ریاستی انتخابات، مودی کی جماعت آگے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 08 فروری 2025ء) مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 70 رکنیریاستی اسمبلی میں 40 نشستیں جیت کر عام آدمی پارٹی (آپ) کو اقتدار سے باہر کر دیا، جو 2015 سے دہلی میں حکومت کر رہی تھی۔ عام آدمی پارٹی کو 17 نشستیں ملیں، جبکہ باقی 13 نشستوں پر گنتی جاری ہے۔ گزشتہ پچیس برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب بی جے پی کو دہلی میں برتری حاصل ہوئی ہے۔

ایک بڑے سیاسی دھچکے میں، عام آدمی پارٹی کے بانی اور سرکردہ رہنما اروند کیجریوال اور ان کے نائب منیش سسودیا اپنی نشستیں ہار گئے، حالانکہ ان کی جماعت نے فلاحی پالیسیوں اور بدعنوانی مخالف مہم کی وجہ سے وسیع عوامی حمایت حاصل کر رکھی تھی۔

جب نتائج آنا شروع ہوئے تو بی جے پی کے حامی، پارٹی کے جھنڈے، مودی کی تصاویر لہراتے اور جشن مناتے ہوئے پارٹی کے صدر دفتر کے باہر جمع ہو گئے۔

(جاری ہے)

زیادہ تر عوامی جائزے پہلے ہی بی جے پی کی کامیابی کی پیشگوئی کر رہے تھے۔

بھارتی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے رہنما امیت شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی پارٹی کی جیت ظاہر کرتی ہے، ''عوام کو ہر بار جھوٹ سے گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''ہماری جیت وزیر اعظم مودی کے ترقی کے وژن پر عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔

‘‘

بدھ کے روز 1.

5 کروڑ سے زائد اہل ووٹرز میں سے 60 فیصد سے زیادہ نے مقامی حکومت کے انتخابات میں ووٹ ڈالے۔

ہفتے کے روز بی جے پی کی فتح کو اس کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ گزشتہ سال کے قومی انتخابات میں پارٹی خود اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔ تاہم، بی جے پی نے ہریانہ اور مہاراشٹرا میں ریاستی انتخابات جیت کر اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین دوبارہ حاصل کی۔

ان انتخابات سے قبل، مودی کی جماعت نے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار متوسط طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کمی کی، جس کا خیرمقدم کیا گیا۔

الیکشن مہم کے دوران، مودی اور کیجریوال دونوں نے سرکاری اسکولوں کی بہتری، مفت صحت کی سہولیات، بجلی کی مفت فراہمی اور غریب خواتین کے لیے ماہانہ 2,000 روپے (تقریباً 25 ڈالر) وظیفہ دینے کا وعدہ کیا۔

کیجریوال کو گزشتہ سال ایک شراب ڈسٹریبیوٹر سے رشوت لینے کے الزامات پر دو اہم پارٹی رہنماؤں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

انہوں نے ان الزامات کو سیاسی سازش قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے کیجریوال اور دیگر وزراء کو ضمانت پر رہا کرنے کی اجازت دی، جس کے بعد کیجریوال نے وزارت اعلیٰ کا عہدہ اپنی سینیئر رہنما آتیشی کے سپرد کر دیا، جنہوں نے ہفتے کے روز اپنی نشست جیت لی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے کیجریوال کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے مودی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے سیاسی مخالفین کو ہراساں اور کمزور کر رہی ہے۔

انہوں نے قومی انتخابات سے قبل اپوزیشن رہنماؤں پر ہونے والے متعدد چھاپوں، گرفتاریوں اور کرپشن تحقیقات کی طرف اشارہ کیا۔

کیجریوال نے 2012 میں عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی، جو بدعنوانی کے خلاف عوامی غصے کو سیاسی طاقت میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہی۔ ان کی عوام دوست پالیسیوں میں سرکاری اسکولوں کی بہتری، سستی بجلی، مفت صحت کی سہولیات، اور خواتین کے لیے مفت بس سفر شامل ہیں۔

2020 کے ریاستی انتخابات میں، عام آدمی پارٹی نے 70 میں سے 62 نشستیں جیت کر شاندار کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ بی جے پی کو صرف 8 نشستیں ملی تھیں اور کانگریس پارٹی کوئی نشست حاصل نہ کر سکی تھی۔

بی جے پی 1998 میں دہلی میں کانگریس کے ہاتھوں اقتدار سے باہر ہوئی تھی، جس نے یہاں 15 سال حکومت کی تھی۔

ع ت/ ر ب (اے پی)

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عام آدمی پارٹی بی جے پی مودی کی کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی