بشریٰ بی بی سے ملاقات نہ کرانے پر سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)بانی پی ٹی آئی نے عدالتی احکامات کے باوجود بشری بی بی سے جیل میں ملاقات نہ کرانے کے معاملہ پراسلام آبادہائیکورٹ میں سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر کردی،فیصل فرید چودھری ایڈووکیٹ کے ذریعے دائرکی گئی درخواست میں کہاگیاکہ درخواست گزار سابق وزیر اعظم ہیں اور بوگس کیسز میں اڈیالہ جیل سزا بھگت رہے ہیں،فیملی اور وکلا سیجیل ملاقات کیلئے باقاعدہ شیڈول دیاگیا،بشری بی بی بھی اڈیالہ جیل میں ہی قید ہیں،28 جنوری کو عدالت نے حکم دیا کہ ایس او پی کے مطابق ملاقات کرائی جائے،عدالتی حکم کے باوجود جیل حکام کی جانب سے عملدرآمد نہیں کیاگیا،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر جیل سپریٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔