Jasarat News:
2026-07-24@10:08:32 GMT

محکمہ اریگیشن پنجاب کی یونینز کا احتجاج کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT

محکمہ اریگیشن پنجاب کی یونینز کا احتجاج کا اعلان

محکمہ اریگیشن پنجاب کی دس یونینز محکمہ سے ٹریڈ یونینز ختم کرنے کی کوشش کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان NLF کے صدر شمس الرحمن سواتی ،PWF کے چیئرمین عبدالرحمن آسی، آئیسکو لیبر یونٹی کے صدر اور آگیگا پاکستان کے مرکزی رہنما عاشق خان ،پاسبان اریگیشن یونین کے صدر حافظ نصراللہ بروکھا سمیت دیگر یونین کے رہنماؤں خطاب کیا این آئی آر سی اسلام آباد کے سبزہ زار میں اریگیشن یونینز کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ پاکستان میں ٹریڈ یونینز کو میٹھی گولیاں دے کر ختم کیا جارہا ہے۔

اریگیشن کے مزدوروں پر سول سرونٹ کا لیبل لگا کر ان سے ٹریڈ یونین کا حق چھیننا اس کی کڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ٹریڈ یونین فیڈریشن ٹریڈ یونین کی بقا کے لیے متحد ہو کر کام کریں، انہوں نے کہا ہے ایک طرف نجکاری کے ذریعے قومی اداروں کو فروخت کر کے حکمران اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کر رہے ہیں اس سے بھی ٹریڈ یونین تباہ ہو رہی ہے۔اس وقت اریگیشن میں ورک مین کوسول سرونٹ قرار دینے کے خلاف این آئی آر سی میں تمام یونینز متحد ہو کر کیس کی پیروی کر رہی ہیں انہوں نے اریگیشن کی تمام یونینوں کے اتحاد کو سراہا انہیں مبارکباد دی اور انہیں کہا کہ مشترکات پر متحد ہو کر جدوجہد کرنا مزدوروں کے عظیم تر مفاد میں ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک جن حالات سے گزر رہا ہے۔

حکمرانوں اور مقتدر لوگوں کو چاہیے کہ وہ ٹریڈ یونین تحریک کو ایک اسٹیک ہولڈر کے طور پر مشاورتی عمل میں شامل کریں اور ٹریڈ یونین اور پابندی اور نجکاری کے عمل سے گریز کریں انہوں نے کہا کہ ہم مثبت سوچ اور اپروچ رکھنے والے لوگ ہیں ہم ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سب کے ساتھ مل کر ملک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ وہ لوگ کہ جن کے پاس اختیارات ہیں وہ قومی اتحاد کی طرف جائیں جمہوری اداروں کو مضبوط کریں وقتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اس خطرناک عالمی تناظر میں اپنے ملک کے دفاع اور اس کی معیشت کو مضبوط کریں ایسا اسی وقت ممکن ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت کے عمل میں بھی شامل کیا جائے اور ان کے حق کے مشاورت کو دل سے تسلیم کیا جائے تاکہ ہم احتجاجی سیاست سے نکل کر سب مل کر ملک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ 10 فروری کو آگیگا پاکستان کی کال پر تمام مزدور ہر طرح کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس میں بھرپور شرکت کریں گے اور ملازمین کی پنشن گریجویٹی لیو انکیشمنٹ سمیت تمام جائز قانونی حقوق و مراعات کا تحفظ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری مسائل کا حل نہیں ہے اداروں کو ایک اچھی اہل دیانت دار اور باصلاحیت مینجمنٹ کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے ترقی دی جاسکتی ہے منافع بخش بنایا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر آگیگا پاکستان کے مرکزی رہنما آئیسکو لیبر یونٹی کے صدر عاشق خان پی ڈبلیو ایف کے چیئرمین عبدالرحمن آسی اور حافظ نصر اللہ بروکھا سمیت دیگر یونینوں کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور 10 فروری کے احتجاج میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ٹریڈ یونین کے صدر

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا