امریکہ قابض صیہونی رژیم کے کھلے جنگی جرائم کا جواز پیش کرتا ہے، جہاد اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
فلسطینی مزاحمتی تحریک کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ رات جو کچھ ہوا وہ قابض صیہونی رژیم کیجانب سے جنگبندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی تھا اور ہم اس رژیم کے جنگی جرائم کے تسلسل کا ذمہ دار امریکی حکومت کو ٹھہراتے ہیں اسلام ٹائمز۔ فلسطینی مزاحمتی تحریک الجہاد الاسلامی فی فلسطین کے ترجمان محمد الحاج موسی نے اعلان کیا ہے کہ کل رات جو کچھ ہوا وہ قابض صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی تھا جس کے دوران سفاک صیہونیوں نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں بالخصوص بے گھر خاندانوں کی خیمہ بستیوں میں قتل عام اور وحشیانہ بمباری کا ارتکاب کیا ہے۔ فلسطینی خبررساں ایجنسی شہاب کے مطابق محمد الحاج موسی نے کہا کہ عام شہریوں کے خلاف قتل عام کی وسیع کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگردی کی جاری پالیسی کے علاوہ قابض صیہونی فوج غزہ میں عام شہریوں اور معصوم بچوں کے خلاف بھی منظم جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنے سنگین جرائم کو جواز فراہم کرنے کے لئے بیہودہ اور جھوٹے حیلوں بہانوں کا سہارا لے رہی ہے۔ الجہاد الاسلامی فی فلسطین کے ترجمان نے کہا کہ قابض صیہونیوں نے کسی بھی طرح سے نہ تو انسانی بنیادوں پر اور نہ ہی عملی طور پر، جنگ بندی معاہدے کی ذرہ برابر پاسداری نہیں کی بلکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اس معاہدے کی کھلی خلاف ورزیاں بھی کر رہے ہیں۔
جہاد اسلامی فلسطین کے ترجمان نے کہا کہ جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے اولین لمحے سے ہی فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے اس کی تمام شرائط پر مکمل عملدرآمد کیا ہے اور معاہدے کی ذرہ برابر خلاف ورزی نہیں کی۔ محمد الحاج موسی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قابض صیہونی، غزہ کی پٹی میں ضروری سازوسامان اور تکنیکی امدادی ٹیموں کے داخلے کو روکنے کے ذریعے، اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی تلاش میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں جبکہ اس نفسیاتی حربے کا مقصد رائے عامہ کو گمراہ اور فلسطینی مزاحمت کو مجرم ظاہر کرنے کی موہوم کوشش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ثالثوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قابض صیہونی کابینہ کی جانب سے انجام پانے والی بار بار کی خلاف ورزیوں کے خلاف ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات اٹھائیں اور معاہدے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم قابض رژیم کے مسلسل جرائم کا ذمہ دار امریکی حکومت کو ٹھہراتے ہیں کیونکہ امریکہ کو، اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل پر قابض حکومت کو مجبور کرنا چاہیِئے نہ یہ کہ وہ قابض رژیم کی کھلی خلاف ورزیوں کا جواز پیش کرنے لگے! الحاج موسی نے تاکید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم غزہ کی حمایت میں عالمی عوامی تحریکوں اور دشمن کی کھلی خلاف ورزیوں کے خلاف مذمتی سلسلے کے جاری رکھے جانے پر زور دیتے ہیں کیونکہ قابض صیہونیوں پر دباؤ ڈالنے کا ایک مؤثر ذریعہ؛ یہی عوامی تحریکیں ہیں!
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وہ قابض صیہونی کہ قابض صیہونی الحاج موسی معاہدے کی کے ترجمان کے خلاف کہا کہ کیا ہے نے کہا
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔