لیبر پارٹی کا اینڈریو گوئن واٹس ایپ گروپ اسکینڈل میں ملوث مزید ارکان کیخلاف کارروائی کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
لیبر پارٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی اور رکن پارلیمنٹ یا وزیر اینڈریو گوئن واٹس ایپ گروپ اسکینڈل میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ اس معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب صحت کے وزیر کو ایک گروپ چیٹ میں متنازع تبصرے کرنے پر برطرف کر دیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے مبینہ طور پر یہودی مخالف (antisemitic) ریمارکس دیے اور ایک بزرگ خاتون ووٹر کے بارے میں غیر اخلاقی بیان دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ وہ اگلے انتخابات سے پہلے انتقال کر جائے۔
یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد لیبر پارٹی نے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے اور پارٹی قیادت نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔