حج کیلئے عازمین کے ساتھ بچوں کے جانے پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
مکہ مکرمہ ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 فروری 2025ء ) سعودی عرب نے حج کے دوران عازمین کے ساتھ بچوں کے جانے پر پابندی عائد کردی۔ گلف نیوز کے مطابق وزارت حج و عمرہ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے 2025ء کے حج سیزن کے دوران بچوں کے حجاج کے ساتھ جانے پر پابندی عائد کر دی ہے، اس سلسلے میں وزارت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد بچوں کو ہر سال ہونے والی شدید بھیڑ سے منسلک خطرات سے بچانا ہے، یہ اقدام بچوں کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنانے اور حج کے دوران انہیں کسی قسم کے نقصان سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا جب کہ اس سال بھی حج میں شرکت کے لیے ترجیح ہمیشہ کی طرح ان لوگوں کو دی جائے گی جنہوں نے پہلے حج نہیں کیا۔
بتایا گیا ہے کہ نسک ایپ اور آفیشل آن لائن پورٹل کے ذریعے سعودی شہریوں اور رہائشیوں کے لیے 2025ء حج سیزن کے لیے رجسٹریشن باضابطہ طور پر کھول دی گئی ہے، سعودی عرب کی وزارت حج وعمرہ نے داخلی عازمین کے لیے نسک پلیٹ فارم پر حج پیکیج کی بکنگ کا اعلان کیا ، جس کے تحت سعودی شہری اور مملکت میں مقیم غیرملکی جو اس سال حج کرنے کے خواہش مند ہیں وہ مختلف نوعیت کے پیکیجز حاصل کرنے کے لیے ’نسک‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بکنگ کر سکتے ہیں۔(جاری ہے)
وزارت حج کا مزید کہنا ہے درخواست گزار پلیٹ فارم پر درست معلومات اپ لوڈ کریں، وہ خواتین جو محرم سے استثنیٰ حاصل کرنا چاہتی ہیں انہیں بھی اس کی وضاحت بیان کرنا ہوگی تاکہ انہیں بغیرمحرم کے پرمٹ جاری کیا جا سکے، داخلی عازمین کے لیے حج پیکیجز پہلے آئیے پہلے پائیےکی بنیاد پر بک کیے جاتے ہیں ،اس لیے حجاج کو چاہیئے کہ وہ اپنے پسندیدہ پیکجز کو ترتیب دیں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے ای والٹس ٹاپ اپ ہیں اور اپنے انتخاب کو فوری طور پر حتمی شکل دیں۔ بتایا جارہا ہے کہ ایک اور اہم پیشرفت کے تحت داخلی عازمین اب اپنے حج پیکج کی تین قسطوں میں ادائیگی کرسکتے ہیں، پہلی ادائیگی کے طور پر پیکج کی لاگت کا 20 فیصد بکنگ کے 72 گھنٹوں کے اندر کی جانی چاہیئے، دوسری اور تیسری قسط کل لاگت کا ہر ایک 40 فیصد بالترتیب 20 رمضان اور 20 شوال کو واجب الادا ہے، آخری قسط کی ادائیگی تک بکنگ غیر تصدیق شدہ رہے گی، ہر جزوی ادائیگی کے لیے انوائس جاری کیے جائیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عازمین کے کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔
محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔
حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔