ایک وقت تھا کہ پاکستان میں عالمی کرکٹ کے د روازے مکمل بند ہو چکے تھے۔ کئی سال یہی صورتحال رہی۔ کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں کرکٹ بحال ہوگی۔ پاکستانی فورسز نے ملک میں قیام امن کے لئے بے پناہ قربانیاں دی اور پھر اس کا ثمر کچھ اس طرح ملا کہ پاکستان میں عالمی کرکٹ مکمل طور پر بحال ہوگئی۔ دیگر ٹیموں نے پاکستان آنا شروع کیا جس میں سب سے پہلے سری لنکا نے ہمت کی اور پاکستان کا دورہ کر کے عالمی کرکٹ بحال کی اور سٹیڈیم کی رونقوں کو جلا بخشی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہی زمبابوے کی ٹیم نے دورہ کیا پھر ویسٹ انڈیز نے دورہ کیا۔ اس کے بعد سے کچھ کمی کوتاہی سی لگ رہی تھی۔ کرکٹ پاکستانیوں کے خون میں شامل ہے۔ یہ لوگ کرکٹ اپنے دل میں رکھتے ہیں اور عالمی ستاروں کو پاکستان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے جب پی ایس ایل پاکستان میں آئی تو پاکستانیوں کی چمک دھمک اور جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ اب کرکٹ بحال ہونے کے بعد وزیر داخلہ و چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے لگ بھگ گزشتہ سال ایک تاریخی اور مشکل فیصلہ لیا وہ یہ کہ پاکستان کے سٹیڈیمز کو بھی عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا۔ چیمپئنز ٹرافی سر پر تھی مگر پھر بھی چیئرمین محسن نقوی نے فیصلہ لیا کہ ایک سو اسی دنوں میں ہی سٹیڈیم کی اپ گریڈیشن مکمل ہوگی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ قذافی سٹیڈیم کا حلیہ اور نقشہ ہی بدل گیا۔ قذافی سٹیڈیم کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش کے وزیراعظم شہباز شریف نے سٹیڈیم کا افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چیئرمین پی سی بی اور قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق،سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان،،وفاقی و صوبائی کابینہ کے اراکین سمیت سابق چیئرمینز پی سی بی،، غیر ملکی سفارتکاروں سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی،وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیئرمین پی سی بی نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات بھی کی۔پی سی بی کے مطابق اپ گریڈیشن کے بعد قذافی سٹیڈیم میں 32 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گئی ہے، افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ قذافی سٹیدیم کی تعمیر نو بہت شاندار طریقے سے ہوئی، سب نے ایک ٹیم کے طور پر ریکارڈ 117دنوں میں منصوبہ مکمل کرکے ناممکن کو ممکن بنایا۔انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کی عادت ہے کہ وہ اچھے کام کرتے ہیں ان کو لندن کی سیر کراتے ہیں، سٹیڈیم کی تعمیر کیلئے 2500 افراد نے کام کیا انہیں بھی لندن کی سیر کرائیں گے، شہباز سپیڈ ماضی، اب محسن سپیڈ چل رہی ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی سٹیڈیم کی تعمیر نو میں بھرپور مدد کی ہے، میں پنجاب حکومت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں نے ڈی جی ایف ڈبلیو او کی بڑی تعریف سنی ہے،یہ بہت پروفیشنل سولجر ہیں،ایف ڈبلیو کو بھی بہت اچھے طریقے سے چلا رہے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں قومی کرکٹ ٹیم کے اپنے مایہ ناز کھلاڑیوں کو بھی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شاباش اور مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے حالیہ مہینوں میں بہت اعلیٰ کرکٹ کھیلی اور پوری قوم کا دل جیتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت بھی ایک ٹیم ورک کے طور پر کام کر رہی ہے اور ملک میں معاشی استحکام اورٹھہراؤ آیا ہے، یہ سب مشترکہ ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ آسٹریلیا میں پرتھ کی وکٹ بڑی تیز ہے وہاں پر پاکستان کا میچ تھا اور ڈیننس للی عروج پر تھا، وہ گیند کرا رہا تھا، انتخاب عالم اور سلیم الطاف وکٹ پر تھے۔ڈینس للی بلا کی سپیڈ سے ختم کرا رہا تھا جو انتخاب عالم کو مختلف جگہوں پر لگی۔ جب اوور ختم ہوا تو سلیم الطاف،انتخاب عالم کے پاس گئے اور شاباش دی آپ بڑا اچھا کھیل رہے ہیں جس پر انتخاب عالم نے کہا کہ شاباش چھوڑیں باہر جانے کا راستہ کون سا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت میں بھی مہنگائی اسی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی جیسے ڈینس للی کی گیند برق رفتاری سے چل رہی تھی،مہنگائی کا بوجھ تھا لیکن میرے ساتھی آ کر کہتے تھے ویلڈن آپ تگڑے رہیں تو مجھے بھی اس وقت سلیم الطاف اور انتخاب عالم کا مکالمہ یاد آ گیا جس پر شرکاء نے بھرپور قہقہے لگائے محمد شہباز شریف نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں عوام قومی ٹیم کی جیت کی منتظر ہے، قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی مدد کریں گے، ہم اس دن کا بھی انتظار کررہے ہیں جب قومی ٹیم بھارت کو شکست دے گی۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان سے بہت سی امیدیں ہیں، یہ ٹرافی اللہ تعالیٰ پاکستان کی جھولی میں ڈالے گا، آخرمیں انہوں نے محسن نقوی کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنے اقدامات سے قوم کے دل جیت لیے ہیں۔چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ ہمارا ٹارگٹ تھا چیمپئنز ٹرافی سے قبل قذافی سٹیڈیم کو مکمل کریں گے،بہت سے مزدور ایسے تھے جو 3،3 ماہ سے گھر نہیں گئے۔، اس تقریب کے دلہا ڈی جی ایف ڈبلیو او ہیں جنہوں نے نا ممکن کو ممکن کر دکھایا۔ اس مشکل وقت میں بھی پاکستان آرمی مدد کو آئی ورنہ یہ منصوبہ نا ممکن تھا کہ اس کو اتنے قلیل عرصے میں مکمل کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کے لوگ دن رات اس پراجیکٹ کے ساتھ لگا رہے،یہ تقریباً نیا سٹیڈیم بن گیا ہے، جس طریقے سے کام کو ختم کرایا گیا اس میں نیسپاک کا بھی بہت اہم کردارہے،اس نے بہت زبردست اورعمدہ کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب حکومت کی مدد اورمعاونت نہ ہوتی یہاں اطراف میں کھنڈر نظر آرہا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ تیس سال کے بعد پاکستان میں ایک بڑ اٹورنامنٹ ہونے جارہا ہے ہم سب مل کر اس کو کامیاب کریں گے۔اس موقع پر وزیراعظم نے مختلف محکموں کے حکام میں تعریفی شیلڈز تقسیم کیں۔ افتتاح کے بعد قذافی سٹیڈیم میں آتشبازی اور لائٹس شو کاشاندار مظاہرہ کیا گیا، شائقین کرکٹ کے لیے ہر انکلوژر سے میچ دیکھنے کابہترین ویو ہے۔سٹیڈیم میں زیادہ روشن ایل ای ڈی لائٹس اور 2نئی بڑی سکرین نصب کی گئی ہیں، اس کے علاوہ انکلوژرز کے آگے جنگلے ختم اور آرام دہ نشستیں لگائی گئی ہیں۔ قارئین یہ وہ تاریخی لمحات تھے جس نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے۔ایسے میں بھارتی پراپیگنڈا سب کے سامنے ہے۔ بھارتی لابنگ نے اس ٹرافی کو نیوٹرل وینیو پر لے جانے کی بھرپور لابنگ کی اور دن رات ایک ہی سازش میں وقت ضائع کیا۔ کبھی دبئی اور کبھی ٹرافی سائوتھ افریقا لے جانے کی باتیں کیں مگر کچھ بھی نہ ہو سکا اور آخر میں جیت کرکٹ کی ہی ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Nai Baat
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے کہا کہ اعظم شہباز شریف نے چیئرمین پی سی بی انہوں نے کہا کہ قذافی سٹیڈیم انتخاب عالم پاکستان میں کہ پاکستان محسن نقوی سٹیڈیم کی قومی ٹیم کی تعمیر ٹیم کے کے بعد
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔