WE News:
2026-06-03@04:46:36 GMT

دفاعی چیمپیئنز کے انداز

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT

دفاعی چیمپیئنز کے انداز

دفاعی چیمپیئن پاکستان اس ٹورنامنٹ کے لیے تیار ہے، ٹیم میں کچھ نئے کھلاڑی شامل کیے گئے ہیں اور کچھ پرانے کھلاڑیوں کو واپس لایا گیا ہے۔ جن میں فخر زمان، فہیم اشرف اور خوشدل شاہ شامل ہیں۔

 دیکھا جائے تو ٹیم اس وقت اچھی فارم میں ہے، ٹیم نے حال ہی میں کچھ اچھی سیریز بھی جیتی ہیں جس سے کھلاڑیوں کا حوصلہ بلند ہے۔

اب ظاہر ہے چیمپیئنز ٹرافی ایک بہت بڑا ٹورنامنٹ ہوتا ہے ورلڈ کپ کے جیسی ہی اہمیت اس ٹورنامنٹ کو بھی حاصل ہوتی ہے کیونکہ دنیا کی بہترین ٹیمیں اس میں شرکت کرتی ہیں۔ اس ٹورنامنٹ کو جیتنا کسی بھی ٹیم کے لیے بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے۔

پاکستانی شائقین کو امید ہے کہ ان کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں اچھا پرفارم کرے گی اور چیمپیئن بننے کا اعزاز اپنے پاس ہی رکھے گی۔ لیکن ٹیم کی چال ڈھال کچھ عجب دکھائی دے رہی ہے۔ سب سے پہلے ہم اپنے اسٹار اوپننگ بلے باز صائم ایوب کو انجری کی وجہ سے کھو بیٹھے ہیں اور اب خبریں آرہی ہیں کہ حارث روف سہ ملکی سیریز میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے زخمی ہوگئے ہیں۔

صائم ایوب کی کمی تو کافی حد تک فخر زمان پوری کرہی لیں گے بلکہ فخر زمان سے تو زیادہ امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ پچھلی چیمپیئنز ٹرافی میں بھی انہوں نے بہت اچھا پرفارم کیا تھا۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں کہ فخر زمان ایسے کھلاڑی ہیں جن پر سب سے زیادہ امید رکھی جا سکتی ہے۔

2017 کی چیمپیئنز ٹرافی میں بھارت کے خلاف سینچری اسکور کرنے والے فخر زمان کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے اور ان سے کافی امیدیں بھی ہیں۔ ان کے ساتھ اوپننگ کون کرے گا یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ عثمان خان، بابر اعظم یا کامران غلام میں سے کسی کو اوپننگ کے فرائض سونپے جاسکتے ہیں۔

لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ حارث روف اگر زیادہ انجرڈ ہوگئے تو ان کی جگہ کس کھلاڑی کو شامل کیا جائے یہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ کیونکہ اس بار ٹیم میں کچھ ایسے کھلاڑی بھی شامل ہیں جن پر پہلے سے ہی تنقید کی جا رہی ہے۔

فہیم اشرف اور خوشدل شاہ کی شمولیت پر کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ امام الحق اور شان مسعود کو بھی ٹیم میں شامل نہ کرنے پر تنقید ہورہی ہے۔ فہیم اشرف کی حالیہ کارکردگی کچھ خاص نہیں رہی ہے۔ ان کی بولنگ میں وہ تیزی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ خوشدل شاہ بھی ٹیم میں اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

پاکستان کی بیٹنگ کا دارومدار فخر زمان، بابر اعظم، کامران غلام، محمد رضوان، سلمان علی آغا اور سعود شکیل پر ہوگا۔ فہیم اشرف آلراونڈر کے طور پر کھیلیں گے۔ شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رؤف اگر صحت یاب ہوگئے تو فاسٹ بولر ہوں گے جبکہ ابرار احمد واحد سپنر ہوں گے۔

پاکستان کے ٹیسٹ نائب کپتان سعود شکیل کو ہوم ٹیسٹوں میں ان کی مسلسل اور مضبوط کارکردگی کا صلہ ٹیم میں جگہ ملنے کی صورت میں ملا ہے۔ بائیں ہاتھ کے بلے باز نے اپنا 15واں اور آخری ون ڈے میچ آئی سی سی مینز 50 اوور ورلڈ کپ 2023 میں کولکتہ میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا تھا لیکن اس سیزن میں ہوم ٹیسٹ میں بنگلہ دیش، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف 2سینچریوں اور 2نصف سینچریوں کے ساتھ 13 اننگز میں 577 رنز بنائے ہیں۔

اگر پچھلی چیمپیئنز ٹرافی سے موازنہ کیا جائے تو اس بار ٹیم کمزور دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ پچھلے ٹورنامنٹ میں زیادہ بہتر کھلاڑی تھے جن میں محمد حفیظ اور شاداب خان جیسے اسپنرز، شامل تھے، بابر اعظم اور فخر زمان بھی بھرپور فارم میں تھے۔

تاہم، پاکستان کی فاسٹ بولنگ بریگیڈ، جس کی قیادت شاہین آفریدی، حارث رؤف اور نسیم شاہ کر رہے ہیں، جنہوں نے حالیہ سیریز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ بھی کیا ہے، کسی بھی بیٹنگ لائن اپ کو پریشان کرنے کی مہارت رکھتی ہے۔

اس دوران بابر اعظم اور محمد رضوان کی بیٹنگ لائن اپ کو سہارا دینے کی صلاحیت بھی ٹیم کو ناقابل یقین حد تک خطرناک بنا سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی ان دونوں کی بیٹنگ فارم پر منحصر ہے۔

اگرچہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان کی تیاریاں سہ ملکی سیریز کے افتتاحی میچ میں نیوزی لینڈ سے شکست کے ساتھ بہتر انداز میں شروع نہیں ہوئیں، لیکن محمد رضوان کی ٹیم ایک بار اپنی رو میں آنے کے بعد کسی بھی مخالف ٹیم کو شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

جیسے جیسے ٹورنامنٹ قریب آرہا ہے، پاکستان کے امکانات کا انحصار ممکنہ طور پر اس کے کلیدی کھلاڑیوں کے موقع پر کارکردگی دکھانے پر ہوگا۔  ایکس فیکٹرز سے بھری ٹیم کے ساتھ، پاکستان اپنے ہوم گراؤنڈ پر ٹائٹل کے لیے چیلنج کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پلاننگ ڈیسک

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چیمپیئنز ٹرافی اس ٹورنامنٹ فہیم اشرف کے خلاف ٹیم میں بھی ٹیم کے ساتھ کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان