ایلون مسک نے اوپن اے آئی کو 97 ارب میں میں خریدنے کی پیشکش کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
امریکی ارب پتی آجر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستِ راست ایلون مسک نے 97 ارب ڈالر میں مصنوعی ذہانت کے نمایاں ترین ادارے اوپن اے آئی کو خریدنے کی پیشکش کی ہے۔ یاد رہے کہ ایلون مسک نے اوپن اے آئی پر مقدمہ دائر بھی کیا تھا اور اب وہ اِسے خریدنے پر تُل گئے ہیں۔ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے ایلون مسک کی پیشکش شکریے کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایکس کو 9 ارب ڈالر میں خریدنے کے لیے تیار ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ ایلون مسک اور اُن کے انویسٹمنٹ گروپ نے اوپن اے آئی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو یہ پیشکش کی ہے تاکہ اوپن اے آئی کو خرید پر اُس کی نان پروفٹ حیثیت بحال کی جائے۔
ایلون مسک کے وکیل مارک ٹوبروف نے کہا ہے کہ اگر سیم آلٹمین اور اُن کا بورڈ آف ڈائریکٹرز مل کر اوپن اے آئی کو خالص تجارتی پلیٹ فارم بنانا چاہتے ہیں تو پھر ایلون مسک کی پیشکش قبول کرنے میں کوئی ہرج نہیں کیونکہ ایلون مسک جدید ترین ٹٰکنالوجی کے ادارے کو اُس کی مرضی کا معاوضہ دینا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ ایلون مسک نے 2022 میں ٹوئٹر شہزادہ طلال سے 44 ارب ڈالر میں خریدا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایلون مسک نے کی پیشکش
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔